سیلاب بحالی کے پروجیکٹس کی سست رفتار: پاکستان صرف 1.48 ارب وصول کرسکا

20 ستمبر ، 2023

اسلام آباد( مہتاب حیدر) پاکستان نے اب تک سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں میں بحالی کےلیے 10.9 ارب ڈالر کی فنانسنگ کے جنیوا میں ہونے والے دوطرفہ اور کثیر الطرفین معاہدوں میں سے تقریباً 1.48 ارب ڈالر وصول کیے ہیں۔ تاہم جہاں تک پروجیکٹ کی فنانسنگ کا تعلق ہے تو یہ مایوس کن حدتک رکم رہی ہے اور ستمبر 2023 تک صرف 780 ملین ڈالر خرچ کیے جاسکے ہیں۔ پاکستان گزشتہ مالی سال میں سنگین قسم کے سیلابوں سے گزرا تھا اور اس کے تباہ کن انسانی اور مالیاتی نقصانات ہوئےتھے جس کے لیے عطیات دہندگان نے 10.9 ارب ڈالر کی رقم قرضوں کی شکل میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے آئیل اینڈ گیس جیسی چیزوں پر فنانسنگ کی مد میں بھی 700 ملین ڈالر رقم حاصل کی تھی تاہم یہ رقم بھی پروجیکٹ کی فنانسنگ کےلیے مایوس کن حد تک کم استعمال کی گئی ۔ وفاقی صوبائی سطح کیایجنسیوں کو سیلاب سے متاثرہ پروجیکٹس کےلیے ان رقوم کو استعمال کرنے کے عمل کو تیزرفتار کرنا ہوگا۔ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ نگران وزیراعظم نے اس کم رفتاری کانوٹس لییا ہے کیونکہ مزید قرضوں کے حصول کا انحصار انہیں استعمال کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے پراجیکٹس کے نفاذ کی صلاحیت اور تیزر فتاری پر ہے۔اسلامی ترقیاتی بینک نے 3.6 ارب روپے کا وعدہ ضروری اشیا کی فنانسنگ کےلیے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے 1.1 ارب ڈالر ہر سال کے اختتام تک تقسیم کرنے کا منصوبہ تھا۔ 3.6 ارب ڈالر میں سے300 ملین ڈالر کی تقسیم رواں مالی سال کے دوران جاری ہے۔ تاہم باقی کے 3.3 ارب ڈالر ابھی تک ایک مسئلہ ہے کیونکہ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ سینڈیکیٹڈ فنانسنگ تھی ۔ابھی تک یہ شواہد تھے کہ اس کی شرح سود 10 فیصد سے بڑھ سکتی ہے۔