انتخابات عمران کے بغیر بھی ممکن، PTIکے ہزاروں کارکن جو غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں، الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، نگراں وزیراعظم

25 ستمبر ، 2023

اسلام آباد(جنگ نیوز،نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انتخابات عمران کے بغیر بھی ممکن ہیں،پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکن جو غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں، انتخابات فوج یا نگران حکومت نے نہیں الیکشن کمیشن نےکرانے ہیں۔یہ نئے سال میں ہی ہوں گے جبکہ انتخابات میں فوجی مداخلت کی بات درست نہیں، عام انتخابات سے فوج کا کوئی تعلق نہیں، امریکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہےکہ شفاف الیکشن عمران خان یا جیل کاٹنے والے ان کی پارٹی کے سیکڑوں ارکان کے بغیر بھی ہوسکتے ہیں۔جیل کاٹنے والے سینکڑوں کارکن جلائو گھیرائو میں ملوث،ہزاروں نہیں وہ انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں گے،سول ملٹری تعقلقات کے چیلنج سے انکار نہیں،اس کا حل سویلین اداروں کی کارکردگی کو بتدریج بہتر بنانا ہے،کشمیری بڑی بھارتی جیل میں،کیا کشمیر اگر یورپ،امریکہ میں ہوتا تب بھی یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے ایسا ہی بے حس رویہ ہوتا؟۔فوج سے قریبی تعلق کی بات سیاست کا حصہ ہے، اس پر توجہ نہیں دیتا، فوج اور وفاقی حکومت کے درمیان تعلق بہت ہموار،کھلا اور شفاف ہے۔ ہمیں سول ملٹری تعلقات کے چیلنج کا سامنا رہتا ہے جس سے انکار نہیں، سول ملٹری تعلقات کے چیلنجز کی مختلف وجوہات ہیں،کئی دہائیوں کے دوران سول اداروں کی کارکردگی خراب ہوئی ہے، اس کا حل سویلین اداروں کی کارکردگی کو بتدریج بہتر بنانا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، کشمیری بھارت کی بنائی ہوئی بڑی جیل میں رہ رہے ہیں، کشمیریوں کے پاس کوئی سیاسی حق نہیں ہے، دنیاکی توجہ یوکرین پر ہے لیکن ایک تنازع کشمیر بھی ہے، کشمیر اگریورپ یا امریکا میں ہوتا تو کیا تب بھی اس کے حل کے لیے ایسا ہی بےحس رویہ ہوتا؟ اس تنازع کے اہم کردار کشمیری عوام ہیں، کشمیری عوام کو اپنی شناخت و مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزاکالعدم کرانےکیلیےعدلیہ کےفیصلوں میں مداخلت نہیں کرینگے،چیئرمین پی ٹی آئی یاکسی بھی سیاستدان کیجانب سےقانون کی خلاف ورزی پرقانون کی بحالی یقینی بنائی جائےگی،ہم کسی کےخلاف ذاتی انتقام پر عمل پیرانہیں ،چیف الیکشن کمشنر چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کیوں ہونگے ،فوج سے قریبی تعلق کی بات سیاست کا حصہ ہے اس پر توجہ نہیں دیتا، امید ہے عام انتخابات نئے سال میں ہوں گے ،عدلیہ کوسیاسی مقاصدکیلیے بطورآلہ کاراستعمال نہیں کیاجاناچاہیے۔