الیکشن2018 کے پیچھے موجود قوتوں کا احتساب ہونا چاہئے،طلال چوہدری

25 ستمبر ، 2023

کراچی(ٹی وی رپورٹ)ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ الیکشن2018 کے پیچھے موجود قوتوں کا احتساب ہونا چاہئے، سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ عدالت کی صوابدید ہے کہ نواز شریف کو جیل بھیجے یا کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کا کہے، رکن کور کمیٹی پی ٹی آئی شعیب شاہین نے کہا کہ سزا یافتہ نواز شریف کو واپسی پر جیل جانا پڑے گا،وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے ، میزبان شہزاد اقبال نے اپنے تجزیہ میں کہا دوسرا دھڑا یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا ایسے وقت میں نواز شریف کا ججز اور جرنیل کے احتساب کا مطالبہ درست ہے ، تجزیہ میں ایک انگریزی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کئی رہنماؤں کے مطابق اس طرح کا بے باک بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے غضب کو دعوت دیگا۔ تاہم کچھ ن لیگی رہنما عوامی سطح پر نواز شریف کے بیانیہ کی حمایت کررہے ہیں ، طلال چوہدری کا مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیہ کے حوالے سے لندن سے اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ن لیگ کسی کشمکش میں نہیں ہے اور پلان پر بحث کرنا ہماری پارٹی کا حق ہے اور ذمہ داری بھی ہے، اور جو بیانیہ ہے وہ جب نواز شریف پاکستان آئیں گے اور اپنی پہلی تقریر کریں گے تو اس میں بیانیہ بھی اور پاکستان کے موجودہ مسائل کی وجہ بھی اور مسائل کا حل بھی سامنے آجائے گا۔ شہباز شریف قانونی معاملات پر گفتگو کے لئے دوبارہ لندن آئے ہیں ۔2017 میں جو ہوا وہ ایک حقیقت ہے اور وہ ایڈونچر پاکستان کو لے ڈوبا ہے۔ بیانیہ پر بحث کرنا پارٹی کا حق ہے میاں نواز شریف نے جو تقریر تین دن پہلے کی ہے وہ حقائق پر مبنی ہے ،نواز شریف کی العزیزیہ کیس میں 7 سال کی سزا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ اشتہاری کا مطلب کیا ہے اشتہاری اسے کہتے ہیں جو کورٹ کے بلانے پر بھی نہ آئے اور پھر اس کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کئے جاتے ہیں۔ نواز شریف کو یہ حق ہے کہ وہ وطن واپسی سے پہلے وکیل کے ذریعے عدالت سے رجوع کریں کہ وہ سرنڈر کرنا چاہتے ہیں جس پر عدالت کی جانب سے ان کی تاریخ دی جائے گی وہ اس تاریخ پر آکر خود کو سرنڈر کریں عدالت کے سامنے جس کو راہداری کہا جاتا ہے ، اب یہ ہائیکورٹ کی صوابدید ہے کہ وہ ان کو جیل بھیجے یا پھر ان کی جیل نہ جانے کی استدعا کو مان لے۔ شعیب شاہین نے کہا ایون فیلڈ میں جو ان کی سزا معطل تھی وہ بھی کورٹ نے واپس لے لی ہے اور ان کی اپیل خارج کردی گئی ہے اور انہیں اشتہاری ڈیکلیئر کردیا گیا ہے ،نواز شریف العزیزیہ اور ایون فیلڈ میں اشتہاری ہیں اور ان کی دونوں کیسوں میں طلبی ہے۔ اس سوال کہ اسحاق ڈار کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا جس پر شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ان کو سزا نہیں ہوئی تھی جبکہ نواز شریف کو سزا ہوچکی ہے۔ وہ گرفتاری کے بعد ضمانت کے لئے کارروائی کرسکتے ہیں۔ پروگرام میں صنعتوں کو پیداواری قیمت کی بنیاد پر بجلی فراہم کی جانے کی وزارت تجارت کی تجویز اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کو پھر نوازنے کی کوششوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ جس میں بتایا گیا کہ وہ وزارت تجارت چاہتی ہے کہ گھریلو صارفین کو صنعتوں سے کراس سبسڈی دینے کا عمل ختم کیا جائے کیونکہ کراس سبسڈی دینے سے مقامی صنعتوں کی برآمدات میں مسابقت ختم ہورہی ہے ۔