محمد خان بھٹی کی تقرری ،2بیوروکریٹس کیخلاف مقدمہ ٹل گیا

26 ستمبر ، 2023

لاہور(آصف محمود بٹ ) چیف سیکرٹری پنجاب نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (سابق ڈی جی گروپ) کے افسران کی تنظیم (پاسا) کوسابق سیکرٹری سروسز مسعود مختار اور سابق سیکرٹری (امپلی مینٹیشن ) ڈاکٹر آصف طفیل کے خلاف محمد خان بھٹی کا بطور پرنسپل سیکرٹری تقرر کرنے پردرج مقدمہ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ چیف سیکرٹری کی زیر صدارت پنجاب بھر کے انتظامی سیکرٹریوں اور ڈی جیز کا غیر معمولی اجلاس ہوا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نےاجلاس میں شریک انتظامی سیکرٹریوں کو بتایا کہ سابق سیکرٹری سروسز مسعود مختار اور سابق سیکرٹری (امپلی مینٹیشن ) ڈاکٹر آصف طفیل کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے واقعہ کا علم نہیں تھا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ انہیں دورہ چین کے دوران جب اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے نگراں وزیر اعلی کو بتایا جس پر محسن نقوی نے بھی سخت اظہار ناراضی کیا۔ چیف سیکرٹری نے انتظامی سیکرٹریوں کو بتایا کہ ان کی ہدایات کے بعد ڈی جی انٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے سابق سیکرٹری سروسز اور موجودہ سیکرٹری ایکسائز مسعود مختار سے رابطہ بھی کیا ۔ ڈی جی انٹی کرپشن نے مسعود مختار کو یقین دلایا کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی اور جلد مقدمہ واپس لے لیا جائیگا۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ڈی جی انٹی کرپشن سے پوچھا گیا کہ گریڈ 20یا کہ قانون کے مطابق گریڈ 19کے افسر کے خلاف انٹی کرپشن مین مقدمہ درج کرنے کے لئے چیف سیکرٹری جبکہ گریڈ 20کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے وزیر اعلی پنجاب کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ان دونوں سینئر افسران کے خلاف مقدمہ کیوں اور کیسے درج ہوا؟ ڈی جی انٹی کرپشن نے چیف سیکرٹری کو بتایا کہ 2019میں سابق ڈی جی انٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس نے کسی کیس میں کاروائی کے لئے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے اس قانون کے خلاف سٹے آرڈر لیا تھا جو 3ماہ کے لئے جاری کیا گیا جس کے بعد انٹی کرپشن کو کسی 19یا 20 گریڈ کے افسر کو کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے چیف سیکرٹری یا وزیر اعلی سے اجازت کی ضرورت نہ رہی تھی۔ ڈی جی انٹی کرپشن نے چیف سیکرٹری کو بتایا کہ وہ سٹے آرڈر آج بھی موجود ہے جس کی وجہ سے مذکورہ افسران کے خلاف مقد مہ درج کرنے کے لئے چیف سیکرٹری یا وزیر اعلی سے اجازت نہیں لی۔ پنجاب حکومت نے اس سٹے آرڈر کو ختم کرانے کے لئے عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف سیکرٹری نے نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی ، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سمیت متعلقہ سیکرٹریوں کی کمیٹی بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں جو اس سٹے آرڈر کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ ڈی جی انٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سابق سیکرٹری سروسز مسعود مختار سے رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ اصل قصور احکامات جاری کرنے والی اتھارٹی کا تھا جو اس وقت وزیر اعلی تھے۔مسعود مختار نے کہا کہ کیس کے حوالے سے انٹی کرپشن کے جو بھی سوالات ہیں انہیں تحریری طور پر بھجوائے جائیں جن کا وہ جواب دیں گے۔