دین و دنیا اور محنت مزدوری کے تصور سے نا آشنا اور بھیک مانگنے کو کمائی کا آسان ترین ذریعہ جاننے والے بھکاری وطن عزیز میں لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی اکثریت ایک نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔اس سماجی پستی نے ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی ہے کہ ملک کی عزت و وقار کا بھی انھیں خیال نہیں۔حج و عمرہ پر جانے اور زائرین کا لبادہ اوڑھ کر حجاز مقدس ، عراق اور دوسرے ممالک میں بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ گداگری ان کیلئے ایک نفع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ ویزے کا حصول، وہاں پہنچ کر شرعی حیلے بہانوں اور رودھوکر اپنی غرض و غایت گھڑ کر لوگوں کو بھیک دینے پر مجبور کیاجاتا ہے۔سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بیرون ملک وہاں کے حکام کے ہاتھوںپکڑے جانے والے بھکاریوں میں سے 90فیصد کے پاکستانی شہری ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور یہ کہ سخت ترین قوانین کے حامل سعودی عرب اور عراق کے حکام بھی ان سے عاجز آچکے ہیں۔ مقدس مقامات پر پکڑے جانے والے جیب کتروں کی اکثریت بھی پاکستانی نکلتی ہے۔ یہ سارا معاملہ ملک و قوم کیلئے باعث ندامت ہے۔سڑکوں ، چوراہوں ، مساجد کے باہر اور دیگر عوامی مقامات پر بھیک مانگنے والے افراد نے کیونکر دوسرے ممالک کا رخ کیا، یہ ہماری سماجی کوتاہی کا نتیجہ ہے اور اسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے اوراس بات کا پتا لگایا جائے کہ ان کے پیچھے کون لوگ ہیں جو گداگروں کو بیرون ملک بھی بھیجنے لگے! متعلقہ وزارتوں،محکموں اور سماجی حلقوںپر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نہ صرف اندرون ملک گداگری کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑپھینکاجائے بلکہ ضروری ہوگا کہ بیرون ملک پاکستانی بھکاریوں کا نیٹ ورک پکڑتے ہوئےوہاں مقیم محنت کش اہل وطن کو سر اٹھاکر جینےدیا جائے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998
مزید خبریں
-
فکر مند اِن پُر فتن حالات میںہم ہیں دن رات امنِ عالم کے لئےچین و امریکہ میں صلح و اتحادہے بڑی بات امنِ عالم کے...
-
پس منظر……مبشر علی زیدیملک میں شہری آزادی ہونی چاہئے، حاشر نے مضمون لکھا۔تم لنڈے کے لبرل ہو، بُوٹے نے طنز...
-
میں اپنی بات کا آغاز برطانوی راج سے کر رہا ہوں ۔ 17ویں اور 18 ویںصدی میں ہندوستان ساری دنیا کی منڈیوں پر چھایا...
-
بہت افسوس ہوا تمہارے دوست جیرے پہلوان کی وفات کا سن کر ،بہت پیارا آدمی تھا ! ، ’’ان ہاتھوں سے نہلایا ہے جی...
-
مشرق وسطی میں گزشتہ دو ماہ سے جاری جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے امریکہ اور ایران میں...
-
اپریل 1957ءمیں پاکستان کا پہلا دستور نافذ ہوئے ایک برس گزرا تھا۔ حسین شہید سہروردی ستمبر 1956 ءسے وزیراعظم تھے...
-
الحمد للہ ہم نے معرکۂ حق بنیان مرصوص بھی منا لیا۔ اس سے قبل ہم یومِ دفاع، یومِ فضائیہ، یومِ تکبیر اور اس کے...
-
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی ہر بڑی ملاقات صرف دو ملکوں کی سفارتکاری نہیں ہوتی بلکہ پوری دنیا کے...