دھرنا کیس، حکومت سے عملدرآمد رپورٹ طلب، سب نے مان لیا فیصلہ درست،ہمارا امتحان پاس اب آپ کی باری ،چیف جسٹس

29 ستمبر ، 2023
اسلام آباد (ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا از خود نوٹس نظرثانی کیس میں عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد سے متعلق حکومت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے 27اکتوبر تک فریقین کے وکلاء کو تحریری جوابات جمع کرانے کا حکم دیدیااور سماعت یکم نومبرتک ملتوی کردی ۔ دوران سماعت وفاقی حکومت ‘الیکشن کمیشن اور تحریک انصاف نے اپنی نظرثانی درخواستیں واپس لے لیں جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ درخواستیں واپس لینے کی وجوہات تو بتائیں ‘سچ بول دیں ‘کس سے ڈررہے ہیں ؟ اگر اس وقت اس فیصلہ پر عمل ہوجاتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے‘جہاں سے نظرثانی آنی چاہئے تھی وہاں سے نہیں آئی ‘ہم ریاستی اداروں کو مستحکم کررہے ہیں انہیں نیچا نہیں دکھا رہے ‘مجھ سمیت احتساب سب کا ہونا چاہیے‘آپ لوگوں نے فیصلے کو آج سچ مان لیا‘ہمارامتحان پاس ہوگیا ‘اب آپ لوگوں کی باری ہے کہ آپ ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔پہلے کہا گیا فیصلہ غلطیوں سے بھرا پڑا ہے، کیا اب غلطیاں ختم ہوگئیں؟ ہم پیمرا کی درخواست زیر التو رکھیں گے، کل کوئی یہ نہ کہے ہمیں سنا نہیں گیا،سچ بولنے سے اتنا ڈر کیوں، لکھیں کہ نظرثانی درخواست کا حکم کہاں سے آیا،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، ایک آئینی ادارہ اتنا ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہے؟ ، مٹی پائو کہنا ٹھیک نہیں ہوتا۔جمعرات کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ہم نظر ثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں‘چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ درخواست کیوں واپس لے رہے ہیں، کوئی وجہ ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کوئی خاص وجہ نہیں ہے صرف نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔وفاق اس کیس میں دفاع نہیں کرنا چاہتا، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اب واپس لینے کی وجوہات تو بتائیں۔وکیل پیمراحافظ احسان نے کہا کہ میں بھی اپنی نظرثانی اپیل واپس لے رہا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ کس کی ہدایات پر درخواست واپس لے رہے ہیں،دوران سماعت پی ٹی آئی نے بھی درخواست واپس لینے کی استدعا کردی۔شیخ رشید کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست کی پیروی جاری رکھنے کی استدعا کی گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی وقت ضائع کیا گیا ملک کو بھی پریشان کیے رکھا، اب آپ سب آ کر کہہ رہے ہیں کہ درخواستیں واپس لینی ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا تمام اداروں نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو فیصلے میں لکھا گیا وہ ٹھیک ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لکھیں ناں کہ ہمیں حکم آیا تھا کہ نظرثانی درخواست دائر کریں، یہ بھی لکھیں کہ حکم کہاں سے آیا تھا، اگر آپ کہنا چاہتے ہیں کہ مٹی پاؤ، نظر انداز کرو تو وہ بھی لکھیں، 12 مئی کو کتنے لوگ مرے تھے، کیا ہوا، اس پر بھی مٹی پاؤ؟ یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوتا نئی حکومت یا پرانی حکومت، حکومت، حکومت ہی رہتی ہے پارٹی جو بھی ہو۔دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل قمر افضل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نظرثانی واپس لے رہی ہے، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن تب ٹھیک تھا یا اب ہے؟ کیا کوئی کنڈکٹر تھا جو یہ سب کرا رہا تھا؟ الیکشن کمیشن نے تب کس کے کہنے پر نظرثانی دائرکی؟ آرکیسٹرا میں سب میوزک بجاتے ہیں اور سامنے ایک ڈنڈا لیے کمانڈ دے رہا ہوتا ہے، کیا الیکشن کمیشن تب کنٹرول ہورہا تھا اب ہورہا ہے یا ہمیشہ سے ہوتا آیا؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں وہ چلتا ہے جو پوری دنیا میں نہیں ہوتا، پاکستان میں کہا جاتا ہے کہ حکم اوپر سے آیا ہے، نعوذ باللہ اوپرسے حکم اللہ کا نہیں یہاں کسی اورکا ہوتا ہے،جو ہوا اس کا اعتراف تو کرلیں‘ہمت ہے تو کہیں تب کون سب کچھ کنٹرول کر رہا تھا، پورے پاکستان کو منجمد کیا گیا،کس کا ڈر ہے؟ اوپر والے کا تو نہیں ہے آخر کس سے ڈرتے ہیں؟۔سب سچ بولنے سے اتنا کیوں ڈر رہے ہیں‘چیف جسٹس نے کہا کہ بڑی دلچسپ بات ہے جنھیں نظرثانی دائر کرنا چاہیے تھی، انھوں نے نہیں کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک لبیک نے کوئی نظر ثانی دائر نہیں کی، فیصلہ تسلیم کیا، مرحوم خادم رضوی کی اس بات پر تعریف بنتی ہے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، غلطیاں تسلیم کرنا بڑی بات ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ 12 مئی کو پاکستانی سیاست میں نئی چیز کنٹینرز متعارف ہوئی، ایم کیو ایم آج یہاں ہمارے سامنے آئی ہی نہیں۔عدالت نے جمعرات کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ابھی یہ درخواستیں نمٹا نہیں رہے، پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم فیصلے کو درست مانتے ہیں، نظرثانی نہیں چاہتے‘عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر تے ہوئے عدالت نے 27 اکتوبر تک فریقین کے وکلا سے تحریری جواب طلب کر لیے۔