شہدائے مستونگ کی تعداد 59 ہوگئی،83 سے زائد زخمی

01 اکتوبر ، 2023

مستونگ /کوئٹہ( نامہ نگار/اسٹاف رپورٹر ) مستونگ میں عید میلاد النبی کے جلوس پر خودکش حملے میں اہلسنت کے امیر مولانا سعید احمد حبیبِی، ڈی ایس پی سٹی پولیس نواز گشکوری سمیت جلوس میں شریک59افراد شہیداور 83 سے زائد زخمی جاگئے، دھماکے کے بعدجائے وقوعہ پر قیامت صغری کا منظرتھا،زخمیوں کی چیخ پکار، ہر طرف لاشیں بکھر گئیں کئی انسانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے اور گوشت کے لوتھڑے قریبی گھروں میں جاگرے کئی لاشیں مسخ ہوکر ناقابل شناخت ہوگئیں جائے وقوعہ سے ملنے والے ایک دستی بم کو ناکارہ بناتے ہوئے زوردار دھماکہ ہوا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا،ژوب میں پاک افغان سرحد پر سیکورٹی فورسز اوردہشت گردوں میں فائرنگ کے تبادلے میں چار جوان شہید جبکہ تین دہشت گرد مارے گئے تفصیلات کے مطابق مستونگ میں عید میلاد النبیﷺ کی مناسبت سے دس بجکر 50 منٹ پر مرکزی جلوس میں اس وقت خودکش کا زوردار دھماکہ ہوا جب شرکاء مدینہ مسجد سے نکل کر جلوس میں شامل ہوئے، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی دھماکے میں اہلسنت مستونگ کے امیر و جامع مسجد کے خطیب مولانا سعید احمد حبیبی اور ڈی ایس پی سٹی پولیس محمد نواز گشکوری سمیت 58 افراد جاں بحق اور 83 سے زائد زخمی ہوگئے، قرب و جوار کے گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جائے وقوعہ پر قیامت صغری بھرپا ہوگئی ہر طرف لاشیں بکھر گئیں، زخمیوں کی ہرسو آو بکاء زخمیوں اور لاشوں کے اعضاء کی دور دور میدان اور قریبی گھروں میں جا گرے، انتظامیہ اور رضاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو ایمبولینسز اور پرائیوٹ گاڑیوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال مستونگ منتقل کردیا، ڈپٹی کمشنر اور محکمہ صحت نے دونوں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال مستونگ میں 22 لاشیں اور نواب غوث بخش میموریل ہسپتال مستونگ میں 30 لاشیں جبکہ ٹراما سینٹر کوئٹہ میں 4 اور بی ایم سی ہسپتال میں ایک لاش رپورٹ لائی گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریبا 83 سے زائد بتائی جا رہی بم دھماکے میں مرنے والوں میں کھڈکوچہ کے ایک ہی خاندان کے 4 افراد باپ دو بیٹے اور ان کا بھتیجا بھی شامل ہیں مرنے والوں کو انکے آبائی علاقوں میں سپردخاک کر دیا گیاجبکہ ڈی ایس پی سٹی نواز گشکوری کی میت کو آبائی ضلع سبی روانہ کردی،، شہید وں میں سید عظیم شاہ ولد تیمور شاہ سعید احمد ولد سلیمان یعقوب ولد غلام حسین محمد صلاح ولد میر خان راشد شاہ ولد غفور شاہ شاہ دین محمد ولد زاروظاہر احمد ولد زارو محمد عرفان ولد محمد مشتاق محمد سمیر ولد صفی اللہ مولانا شیر محمد ولد حضور بخش محمد اسلم محمد ملوک خدا بخش ولد مولو خان امین اللہ ولد حبیب اللہ غلام حیدر ولد حاجی شاہ محمد اصغر علی ولد کشمیر خان حفیظ اللہ ولد یار جان سعید احمد ولد سلیمان محمد یعقوب ولد میر غلام حسین محمد رفیق ولد لونگ خان نور نبی ولد زمان خان احمد خان ولد تل خان نثار احمد ولد نور احمدعلی احسن ولد امام بخش عمران شاہ ولد سید قادر شاہ حاجی مندو ولد زمان خان شریف ضیا۶ الرحمن ولد ڈنہ خان حاجی نجیب اللہ ولد حاجی محمد بقا معشوق علی ولد رام علی حافظ عبدالفتح ولد عبدالغنی شیر احمد ولد غلام حیدرمولا بخش ولد شربت حسین کنگڑ خان ولد جمشیدادریس ولد بابل شریف محمد ولدشاہنوازریاض احمدخیر بخش ولد حضور بخش وقاص احمد ولد نیاز محمدسجاول ولد عبدالصمدمولانا شیر احمد جنگل فہیم غلام نبی ممتاز علی تاج محمدعبدالسلام عدنان حبیب اللہ بلال احمد امداد حسین اور دیگر نامعلوم افراد شامل ہیں ۔درایں اثناء سیکورٹی ذرائع کے مطابق ژوب میں پاک افغان سرحد ی علاقے سمبازہ میںسیکورٹی فورسز کے جوان ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے فائرنگ کرتے ہوئے سرحد عبور کرنے کی کو شش کی فائرنگ کے نتیجے میں چار جوان شہید ہو گئے دیگر جوانوں نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کر تے ہوئے جوابی کارروائی کی جس میں تین دہشت گر مارے گئے اوردہشت گردوں کا سرحد پار کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق سمبازہ کے قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں آنے کی کوشش کر رہے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق حوالدار ستار، لانس نائیک شیر اعظم، لانس نائیک عدنان اور سپاہی ندیم بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔