ستمبر میں پاکستانی روپیہ کی بہترین کارکردگی، دنیا بھر کی کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا

01 اکتوبر ، 2023

کراچی ( رپورٹ: سہیل افضل ) پاکستانی کرنسی کی ستمبر میں بہترین کار کردگی ،دنیا بھر کی کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ، تفصیلات کے مطابق ڈالر کی غیر قانونی تجارت ،اسمگلنگ،سٹہ بازی کے خلاف کریک ڈاون، انتظامی اقدامات اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے اصلاحات کے مثبت نتائج، ستمبر میں پاکستانی کرنسی کی دنیا بھر میں بہترین کار کردگی،عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں ڈالر کے مقابلے پر پاکستانی کرنسی میں 6.2 فیصد بہتری آئی ہے ،اس طرح یہ ستمبر میں یہ دنیا کی نمبر ون کرنسی رہی، مقامی ذرائع کے مطابق ایک ماہ قبل انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 307.10 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جو کہ اب ستمبر کے آخری کاروباری روز کم ہو کر 287.74 روپے پر آگیا ہے اسطرح ایک ماہ میں ڈالر کی قدر میں 19.36 روپے کی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 7 فیصد کے قریب ہے ،ایک مقامی کمپنی کے تجزیہ کے مطابق ستمبر کے دوران انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے پر پاکستانی روپے میں 6.3 فیصد،یورو کے مقابلے پر 9.2 فیصد اور برطانوی پاونڈ کے مقابلے پر 8.4 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے ،جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے پر روپے کی قدر میں 10.8 فیصد،یورو کے مقابلے پر 10.9 فیصد اور برطانوی پاونڈ کے مقابلے پر 13.15 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے،عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 31 اگست کو روپے کے مقابلے پر ڈالر کی قدر 305.54 روپے تھی جو کہ 28 ستمبر کو کم ہ وکر 287.74 روپے پر آگئی ہے اس طرح ایک ماہ میں روپے کی قدر 17.80 روپے بہتر ہو ئی ،مقامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈالر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھر پور کریک ڈاون کے مثبت نتائج ملکی معیشت پر بھی مرتب ہونگے ،مارکیٹ میں استحکام آرہا ہے ،افواہوں کے ختم ہونے سے سٹہ بازی اور ذخیرہ اندوزی رک گئی ہے ،اسٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کو اپنی ایکس چینج کمپنیاں قائم کرنے کی اجازت دینے اور دیگر اقدامات کے بھی اچھے نتائج سامنے آئیں گے،،انتظامی اقدامات سے غیر قانونی کام کرنے والی ایکس چینج کمپنیاں بند ہو گئی ہیں،گولڈ مارکیٹ میں بھی بھر پور کاروائی سے کرنسی مارکیٹ پر مثبت اثرات آئے ہیں ،روپے کی قدر بہتر ہونے سے مہنگائی میں واضح کمی ہو گی جس سے عوام کو ریلف ملے گا،تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی طلب مصنوعی تھی،کاروباری برادری اور سٹہ بازوں نے اسے ایک منافع بخش کاروبار بنا لیا تھا جس کے باعث ڈالر کی طلب بڑھ رہی تھی اب صورتحال بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہو گی۔