مستونگ کئی مرتبہ دہشتگردوں کا نشانہ بنا، 6 خودکش حملے،سیکڑوں افراد جان سے گئے

01 اکتوبر ، 2023

مستونگ ( رپورٹ عطااللہ بلوچ ) مستونگ کئی مرتبہ دہشتگردوں کا نشانہ بنا، ایک دہائی سے چھ بڑے خودکش حملے ہوئے اور دو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آئے ،تین بڑے حملے ایران زائرین پر ہوئے جس میں کوئٹہ تفتان شاہراہ پر درینگڑھ اور کوشکک کے مقام پر زائرین کی بسوں پر خودکش حملے ہوئے ان دونوں واقعات میں 70 کے قریب ہزارہ زائرین جاں بحق ہوئے اور 100 کے قریب شدید زخمی ہوئے ایک اور واقعہ میں دہشت گردوں نے لکپاس کے مقام پر ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا جس میں مسافروں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ہزارہ برادری کے 22 افراد کو قطار میں کھڑا کرکے گولیاں ماریں جبکہ 2013 میں دشت کے مقام پر سڑک تعمیر کرنے والے مزدوروں پر قریبی پہاڑوں سے جدید اسلحہ سے فائرنگ کرکے 11 مزدوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 2015 میں نامعلوم دہشت گردوں نے کھڈکوچہ کے مقام پر دو مسافر بسوں کو روک کر شناخت کے بعد ان کے 22مسافروں کو لے جاکر قریبی پہاڑوں میں قطار میں کھڑا کرکے گولیاں مار یں گئیں ۔ 2016 میں کھڈکوچہ کے قریب خودکش حملہ آور نے سیکورٹی فورسز کی چیک میں داخل ہوکر خود کو اڑا دیا تاہم اس میں تین سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے، 12 مئی 2017 کو مستونگ میں دستار بندی کی تقریب کے دوران ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا غفور حیدری پر خود کش دھماکا کیا جس میں غفور حیدری کے اسٹاف آفیسر سمیت 28 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے جبکہ 42 زخمی ہوئے جبکہ ملک کا سب سے بڑا خودکش حملہ 13 جولائی 2018 کو نوابزادہ میر سراج رئیسانی کی الیکشن مہم کے سلسلے میں درینگڑھ کے مقام پر جلسہ میں ہوا جس میں نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت 200 افراد جاں بحق اور 250 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ 14 ستمبر 2023 کو کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ چوتو کے مقام پر پی ڈی ایم کے مرکزی ترجمان سینیٹر حافظ حمداللہ کی گاڑی پر خودکش حملہ ہوا جس میں مولانا حافظ حمداللہ سمیت 12 افراد زخمی ہوئے اسی طرح 29 ستمبر 2023 کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جلوس میں خودکش حملہ ہوا جس میں اہلسنت کے امیر مولانا سعید احمد حبیبِی ڈی ایس پی سٹی پولیس نواز گشکوری سمیت 58 افراد جاں بحق اور 83 افراد شدید زخمی ہوئے۔