نگران وفاقی حکومت نے معیشت کی بحالی کیلئے کئی سخت اقدامات کے علاوہ جن سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، کچھ ایسے فیصلے بھی کئے ہیں جن پر عملدرآمد سے عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری کی مہم سب سے اہم ہے۔ اس عارضی حکومت نے سرکاری سطح پر نئی اسامیوں کی تخلیق پر پابندی، سکیورٹی گاڑیوں کی خریداری، ترقیاتی پروگراموں کے لئے مخصوص رقوم میں کمی، ہائیر ایجوکیشن کیلئے ترقیاتی منصوبوں میں تخفیف اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں وفاقی شیئر میں کمی کے ذریعے 19کھرب روپے بچانے کا منصوبہ بنایا ہے جو حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری کی سمت میں ایک خوش آئند اقدام ہے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ قومی خزانے کا واحد اکائونٹ بنایا جائے گا۔ وفاقی وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی رقوم اس اکائونٹ میں جمع کرائیں۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ صرف اس مد میں 4 کھرب 24ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کے آپریشنل اخراجات میں بھی تخفیف کی جائے گی جس سے 3کھرب 28 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ ماضی میں قومی خزانے کا بے دریغ استعمال ایسی خرابی ہے جس سے ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے دوسرے غیر ضروری اخراجات کے علاوہ اعلیٰ سرکاری افسروں اور بعض محکموں اور اداروں کے ملازمین کیلئے بھاری تنخواہوں کے علاوہ دوسری غیر معمولی مراعات بھی قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔ عوامی حلقے ان کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔ نگران حکومت نے نئے ٹیکس لگانے کیلئے آئی ایم ایف کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا ہے۔ معاشی بہتری کیلئے نگران حکومت نے جو سوچ دی ہے وہ قوم کے اجتماعی مفاد میں ہے۔ لیکن اس کے نتائج زمین پر بھی نظر آنے چاہئیں۔ محض زبانی اعلانات کافی نہیں۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998
مزید خبریں
-
پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب، معیشت اور زندگی کی بقا کی بنیادی شرط ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ...
-
قیمت ِ اشیا میں تبدیلی یہاںاب سرِ بازار ہوگی روز روزآئے گا اکثر دُکانوں پر مزہ حجّت و تکرار ہوگی روز روز
-
مردانگی سمجھنے سے بہت پہلے سکھا دی جاتی ہے۔ ایک لڑکا، جو ابھی بمشکل جملے بنانا سیکھتا ہے، پہلے ہی یہ ہدایات...
-
گزشتہ سال دسمبر 2025ءمیں یورپی یونین کے 7 رکنی مانیٹرنگ مشن نے جی ایس پی پلس معاہدے کی تجدید کیلئے پاکستان کا...
-
پاکستانی بیوروکریسی کے بارے یہ تاثر عام ہے کہ شاید ان کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود...
-
مولانا فضل الرحمان دینی علوم کے اعتبار سے کتنے بڑے علامہ ہیں ،یہ فیصلہ تو ارباب جبہ و دستار ہی کرسکتے ہیں...
-
مختلف اصنافِ ادب میں اظہارِ خیال کرنیوالے کچھ تخلیق کار ایسے خوش بخت ہوتے ہیں کہ اُن کا ہر اظہار توانا ،منفرد...
-
دنیا کی ہر کامیاب جمہوریت کی اصل طاقت صرف پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں نہیں بلکہ ان مقامی حکومتوں میں ہوتی...