کنواں کیسے پاک ہو گا؟

خلیل احمد نینی تال والا
01 اکتوبر ، 2023
ایک لطیفہ سناتھا کہ اگر ایک کتا کنویں میں گر جائے تو کنواں کیسے پاک ہو گا ۔ علما نےفقہی احکام بتائے ہیں کہ مردہ کتا نکالنے کے بعد پانی کے اتنے ڈول اگر کنویں سے نکال کر پھینک دیں باقی جو پانی کنویں میں ہے وہ پاک سمجھا جائے گا ۔کسی گائوں کےکنویں میں کتاگر گیا اور لوگوں کو پتہ نہ چلا اور کتا وہاں گل سڑ گیا، بدبو آنے لگی تو لوگ مولانا کے پاس آئے اور کہا کہ کنویں میں کتا گر گیا ہے تو کیا کریں تو انہوں نے کہا کہ اس سے 20ڈول پانی کے نکال دو،انہوں نے 20ڈول پانی کے نکالے اس کے بعد بھی پانی میں سے بدبو آرہی تھی ۔پھرمولانا کے پاس گئے اور کہا کہ 20ڈول نکالنے کے بعد بھی بدبو آرہی ہے ۔تو انہوں نے کہا کہ50ڈول اور نکال دوتو 50ڈول اور پانی کے نکالے تو پھر بھی بدبو آرہی تھی ۔پھر 100ڈول پانی کے نکالے تو پھر بھی بدبو برقرار رہی۔لوگ جب چوتھی دفعہ مولانا کے پاس گئے تو انہوں نے پوچھاکہ کتا بھی نکالا ہے یانہیں تو انہوں نے کہا نہیں کتا تو ہم نے نہیں نکالا تو انہوں نے کہاپہلے کتا تونکالوپھر اس کے بعد ڈول نکالنا تب پاک ہوگا ۔ابھی جو بھی ہمارے ذمہ داران ہیں جن کے اختیا ر میں سب کچھ ہے وہ پاک کرنا چا ہ رہے ہیں ، معیشت کو پاک کر رہے ہیں ،دہشت گردوں کو ملک سے پاک کر رہے ہیں اور قوم کو فرقہ واریت سے پاک کر رہے ہیں تو پہلی چیز یہ ہے کہ کتا نکالیں ۔ڈول نکالنے سے کوئی چیز پاک نہیں ہوتی ۔ابھی آپ نے پکڑ لئے ہنڈی کا کاروبار کرنے والے چند افراد یہ ڈول نکالا ہے آپ نے ،اسی طرح اسمگلنگ کر نے والے چند ٹرک پکڑ لئے آپ نے آج فلاں گودام پر چھاپہ مارکر کچھ چینی پکڑ لی یہ ڈول ہیں جو آپ نکال رہے ہیں ۔اس ڈول نکالنے سے ملک پاک نہیں ہو تا جب تک کتا نہیں نکالتے، اس کنویں کو کتوں نے گنداکیا ہوا ہے ۔وہ نجس کتے اور ان کی سڑاند نے اس کو گندہ کیا ہوا ہے وہ نکالیں کنویں سے جب کتا نکلے گا تو پھر ڈول نکالنا مناسب ہوگا۔پھر یہ جو مجرم مارکیٹ میں لگے ہوئے ہیں فائدہ اٹھانے میں ان کو پکڑیں ان کے اوپر کیس چلائیں یہ ڈول ہیں ۔پھر ملک میں معیشت بھی سنبھل جائے گی ،فرقہ واریت میںبھی رکاوٹ آجائے گی اور دہشت گردی بھی رک جائے گی ۔لیکن جب تک کتا کنویں میں ہے یہ امید نہ رکھیں کہ یہاں سے ہمیں کچھ فائدہ ملے گا۔
قارئین ہمارے پاس تیل تو نہیں مگر گنے کی پیداوار میں پوری دنیا میںہم پانچویں نمبر پرہیں،کیا ہم سستی چینی حاصل کر پا رہے ہیںabsolutely not۔ہمارے پاس تیل تو نہیں مگر گندم کی کاشت میںہم آٹھویں نمبر پر ہیں،کیا ہم کو سستی روٹی دستیاب ہےabsolutely not۔ہمارے پاس تیل تو نہیں مگر چاول کی پیداوار میںہم دسویں نمبر پر ہیں،تو کیا عام شہری با آسانی اچھا چاول خرید سکتا ہےabsolutely not۔ہمارے پاس تیل تو نہیں مگر کپاس کی پیداوار میںہم چوتھا بڑا ملک ہیں،تو کیا ہر شہری با آسانی تن ڈھاپنے کو کپڑا خرید سکتا ہےabsolutely not۔اگر تیل دریافت ہوا بھی تو وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، اور اشرافیہ پر مشتمل 60,70خاندانوں کی چمکتی ہوئی قسمت کو مزید چمکادے گا۔جب کہ ہم تب بھی تیل کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے رہیں گے ۔دنیا کے ممالک تیل سے نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ترقی کرتے ہیں ،عوام دریافتوں سے نہیں عدل و انصاف سے خوش حال ہوتے ہیں۔اس لئے تھوڑا نہیں پورا سوچئے۔ کرپٹ نظام کے خلاف شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
گزشتہ ایک ماہ سے چھاپوں کے دوران پورٹ قاسم کے علاقے سے 78ہزار چینی کی بوریاں برآمد کی گئیں ،کراچی ماڑی پور روڈ پر مشترکہ کارروائی میں چینی ،مکئی، کالے و سفید چنے کی 2لاکھ سے زائد بوریاں بر آمد کی گئیں ۔کوئٹہ میں کسٹم کے عملے نے 20ٹرکوں سے 8ہزار 206بیگ چینی پکڑی۔گندم سندھ سے 70ہزار بوریاں برآمد کی گئیں اور 90ہزار ٹن کا ذخیر ہ بھی قبضہ میں لے لیا گیا ،جس کی اسمگلنگ میں سرکاری اہلکار ملوث تھے۔ڈی آئی خان سے بھی 4لاکھ کلو گرام چینی پکڑی گئی ۔ سوات سے بھی 500چینی کی بوریاں برآمد کی گئیں ۔شکار پور سے 320ٹن چینی اور 16ہزار کھاد کی بوریاں پکڑی گئیں ۔ایک رپورٹ جو وزیر اعظم کو دی گئی اس میں ایرانی تیل اسمگلنگ میں 29سیاستدان ،90سرکاری حکام اور 76ڈیلر ملوث پائے گئے ۔ رپورٹ میں 792کرنسی ڈیلر حوالہ ،ہنڈی میں ملوث پائے گئے۔ جس میں 205پنجاب ،182خیبرپختونخواہ،176سندھ ،104بلوچستان ،37آزاد کشمیر اور 17اسلام آباد کے ڈیلر شامل ہیں ۔پاکستان میں چینی کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں ،مگر شوگر مافیا نے اضافہ کیا ہوا ہے ۔لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اتنی چینی اور آٹا بر آمد ہونے کے باوجود کیا قیمتیں کم ہوئی ہیں ’’نہیں ‘‘۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو بتا یا جائے کہ اتنے ڈالر ہم نے پکڑے اتنی اسمگلنگ کی چینی ،گندم،مکئی، کالے و سفید چنے یہ سب چیزیں پکڑی ہیں یہ کہاں گئیں؟ آیا کہ سرکاری خزانے میں جمع ہوئی ہیںیانہیں یا بتایا جائے کہاں جمع ہوئی ہیں ، میرے خیا ل میں جب تک چینی اور آٹا اسمگلنگ کی کارٹیلائزیشن کو نہیںتوڑیں گے اس وقت تک یہ چلتا رہے گا۔لہٰذا اس کو توڑنے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہئے کہ پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کو بھی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)