نااہلی سے اہل ہونے تک کا سفر

یاران وطن ......محمدعرفان صدیقی
01 اکتوبر ، 2023

دوہزار سولہ میں شروع ہونیوالے پانامہ کیس میں،جب اس وقت کے حاضر اور تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد کرکے مقدمات کا آغاز ہوا تو خود وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت ان کی جماعت کے کئی زیرک سیاستدانوں کو اندازہ ہوچکا تھا کہ اس مقدمے کا انجام کیا ہونے کو ہے لیکن مقدمے کے اختتام تک جب ریاست کو میاں نوازشریف کے خلاف کسی بھی طرح کی بددیانتی کا کوئی ثبوت حاصل نہ ہوسکا تھا اورن لیگ کے کئی ارکان کو امید ہوچلی تھی کہ شاید میا ں نواز شریف کو ان جھوٹے الزامات سے باعزت بری کردیا جائے لیکن اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ کے روز جس الزام اور جس فیصلے سے میاں نواز شریف کو سزا دے کر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا وہ مضحکہ خیزتھا ، کیونکہ سزا اس امکان پر دی گئی تھی کہ میاں نواز شریف اپنے صاحبزادے کی کمپنی سے تنخواہ وصول کرسکتے تھے لیکن کی نہیں تاہم وہ تنخواہ جو انھوں نے وصول نہیں کی اور اپنے ٹیکس میں ظاہر نہیں کی لہٰذا اس بددیانتی کے سبب انھیں نہ صرف وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹادیا گیا بلکہ انھیں زندگی بھر کے لئے نااہل بھی کردیا گیا ۔ میاں نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کھلنے اور اس متنازع فیصلے کے پیچھے کون سے عناصرکارفرما تھے یہ الگ بحث ہے لیکن آج ملک جس معاشی تباہی کا شکار ہے اس کا سبب وہی فیصلہ تھا کیونکہ اس وقت پاکستان ایک تیز رفتار معاشی ترقی کا سفر طے کررہا تھا ، پاکستان تیزی سے ابھرتی ہوئی گیارہ معیشت رکھنے والے ممالک میں شامل ہوگیا تھا ، پاکستان کی معاشی شرح نمو پانچ اور چھ فیصد سالانہ کے حساب سے جاری تھی ، دنیا بھر کے معاشی ادارے پاکستان کے بانڈز فروخت کرنے میں فخر محسوس کررہے تھے ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سو روپے فی ڈالر تک محدو د تھی ، لیکن ذاتی عناد اور نفرت نے پاکستان کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا ، پھر دوہزار اٹھارہ کے انتخابات سے قبل بھی تمام غیر جانبدار سروے نواز شریف کو مقبول ترین لیڈر قرار دے رہےتھے ، لیکن انتخابات ہوئے اور وہی ہوا جس کی پاکستان کی سیاست میں روایت رہی ہے، ن لیگ کو غیر یقینی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تحریک انصاف نے وہ نشستیں بھی جیت لیں جن کا کبھی سوچا بھی نہ تھا خصوصاََ کراچی سمیت پنجاب کے کئی حلقوں میں کئی دنوں تک نتائج کو روکے رکھا گیا اور پھر جتنی سیٹوں کی تحریک انصاف کو ضرورت تھی ان سیٹوں پر تحریک انصاف کے نمائندوں کو کامیابی دلا دی گئی ، وہ وقت تو گزر ہی گیا لیکن آج وقت نے ثابت کردیا کہ نواز شریف کی دشمنی میں مقتدر حلقوں نے تحریک انصاف کو کامیابی تو دلادی لیکن جو تباہی تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں پاکستان کے نصیب میں آئی اس سے آج پاکستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہوچکا ہے ، صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ پاکستان کئی ماہ قبل ہی ڈیفالٹ کرچکا ہوتا لیکن پی ڈی ایم کی حکومت کی سرتوڑ کوششوں سے پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا ، آج پاکستان کے اسمگل شدہ ڈالروں پر انحصار کرنے والا افغانستان،جس کی کرنسی دنیا کی بہترین کرنسی قرار دی گئی جہاں ڈالر کی قدر اسی افغانی روپے ہے تو مجھے تین سو پاکستانی روپے کا ڈالر یاد آیا ،شکر ہے آج موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی کوششوں سے معاشی دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں ڈالر کی قدر دوسو پچاسی روپے تک آن پہنچی ہے، امید ہے جلد پاکستان میں ڈالر ڈھائی سو روپے میں فروخت ہوا کرے گا ، بہر حال اگلے عام انتخابات سر پر ہیں ملک میں نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عہدہ سنبھال چکے ہیں جنھیں خود انصاف کے گھر میں بیٹھ کر ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا ،لہٰذا عوام کو امید ہے کہ میاں نوازشریف کیلئے بھی انصاف وہیں سے شروع ہوگا ،جہاں سے ناانصافی کا آغاز ہوا تھا ،ان کی حکومت کا جس طرح خاتمہ کیا گیا تھا اس پر پوری دنیا میں سوالات ہوئے تھے آج وہ لندن میں موجود ہیں اور پاکستان آنے کو ہیں اور اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا امید ہے کہ انھیں نہ صرف انصاف ملے گا بلکہ انھیں اگلے عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ بھی ملے گی تاکہ وہ عوام کے سامنے ان حقائق کو پیش کرسکیں جو عوام جاننا چاہتے ہیں اور اگر عوام موقع دیں گے تو میاں نواز شریف اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک کی ترقی کا سفر وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے روکا گیا تھا۔