داعش اور TTP کے پیچھے جائیں گے، شہدائے مستونگ کی تعداد 59، ہنگو میں دھماکا، 5 شہید، افغانستان سے دراندازی ناکام، 4 جوان شہید، 3 جنگجو ہلاک

01 اکتوبر ، 2023

مستونگ، ہنگو، پشاور، اسلام آباد (ایجنسیاں، جنگ نیوز)بلوچستان کے ضلع مستونگ میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوںکی تعداد 59 ہو گئی ، دہشت گرد نے عید میلاد النبیﷺ کے جلوس میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جبکہ ہنگو میں نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 5نمازی شہید ہوئے، فورسز نے افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنادی جھڑپ میں 4جوان شہید، 3جنگجو مارے گئے، نگراں وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ داعش اورٹی ٹی پی کے پیچھے جائینگے ، ملک میں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کیخلاف جتنا بڑا آپریشن کرنا پڑا اب کرینگے، دہشت گردی میں ’را‘ ملوث، خون کا بدلہ لینگے، دریں اثناء آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کوئٹہ دورہ کیا جہاں انہیں مستونگ اور ژوب میں حالیہ دہشت گرد حملوں پربریفنگ دی گئی، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان دشمنوں کی پراکسی ہیں، بدی کی طاقتیں ریاست کی طاقت کا سامنا کرتی رہیں گی، ان کیخلاف آپریشن بلاتعطل جاری ہے، دہشت گردوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے، دہشت گردی جڑ سے اکھاڑنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، 12 ربیع الاول کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات خوارج کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہیں، ادھر عالمی برادری نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان سے اظہار یکجہتی کیا ہے، اقوام متحدہ، امریکا، ایران، ترکیہ اورمتحدہ عرب امارات کی جانب سے سانحے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، سابق صدر آصف زرداری، سابق وزیر اعظم شہباز شریف ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق، اسپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی، ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقرو دیگر رہنمائوں نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،مستونگ میں جلوس پر خودکش دھماکے کے بعد حکومت بلوچستان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، بلوچستان اسمبلی، وزیر اعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، بلوچستان ہائیکورٹ سمیت تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جمعہ کے روز ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق افرادکی تعداد 59 ہوگئی۔ترجمان سول اسپتال کوئٹہ نے بتایا کہ مستونگ خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 59 ہوگئی ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مستونگ کے مطابق 52 اموات نواب غوث بخش میموریل اسپتال میں ریکارڈ کی گئیں، 6 اموات سول اسپتال میں ریکارڈ ہوئی اور ایک جاں بحق شخص کی لاش بی ایم سی کمپلیکس میں موجود ہے۔ترجمان سول اسپتال کے مطابق مستونگ خودکش حملے میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 66 ہے، جن میں سے 52 کو سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا تھا، ان زخمیوں میں سے 25 زخمی اب بھی شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ادھر ہنگو کی ایک مسجد میں جمعہ کے خطبے کے دوران دھماکا ہوا، جس میں پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق اور 12 نمازی زخمی ہو گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق 4 افراد کی لاشیں اور 12 زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک زخمی دوران علاج چل بسا۔ دھماکا تھانہ دوآبہ کے اندر مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران ہوا۔ ایس ایچ او شابراز خان کے مطابق دھماکا جمعہ کے آخری خطبے کے دوران ہوا۔ دھماکے کے وقت مسجد کے اندر 30 سے 40 نمازی موجود تھے۔ دھماکے کے وقت مسجد کی چھت گر گئی، جسکے ملبے تلے دب کر کئی افراد زخمی ہوئے۔نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے دھماکے سے متعلق پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ۔پولیس نے ہنگو خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس میں بتایا گیا کہ اہلکاروں کے الرٹ ہونے کی وجہ سے نقصان کم ہوا۔ دو خودکش حملہ آور مسجد میں داخل ہونے کیلئے عین وقت پر پہنچے تھے، پولیس کی بروقت کارروائی سے ایک خودکش حملہ اورکو مسجد کے باہر ہلاک ہوا۔ ہنگو میں خودکش حملہ آوروں کی دھماکے سے پہلے کی ویڈیو سامنے آگئی، جس میں حملہ آوروں کو موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گزرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔سی سی ٹی وی ویڈیو کے مطابق موٹر سائیکل سوارخودکش حملہ آور نے چادر لپیٹ رکھی تھی، دونوں حملہ آور موٹر سائیکل پر تھانے کی جانب گئے۔ہنگوخودکش دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی کوہاٹ ریجن میں ایس ایچ او دوآبہ کی مدعیت میں نامعلوم دہشت گردوں کیخلاف درج کرلیا گیا جبکہ حملہ آور کے جسم کے نمونے حاصل کرلیے گئے۔ضلع ہنگو کے علاقہ دوآبہ میں پولیس اسٹیشن میں دھماکہ میں اپنے دیگرساتھیوں اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت پانے والے کانسٹیبل محمود شاہ کی نماز جنازہ گزشتہ شب پولیس لائن ہنگو میں پورے سرکاری اعزاز کیساتھ ادا کر دی گئی۔کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو میںنگران وفاقی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ہے، منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور دہشت گردوں کی نانی ایک ہے، دہشت گردو ں نے 12 ربیع الاول کے دن معصوم لوگوں کو بیدردی سے مارا، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا پیچھا کرینگے اور پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حسا ب لیا جائیگا۔ ہمیں معلوم ہے یہ کون ہے اور کہاں سے کررہا ہے، دہشت گردوں کیخلاف جس قسم کی فورس استعمال کرنا پڑی کرینگے، ہم اپنی رٹ کو ہر حال میں قائم کرینگے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ پاکستان میں دہشت گردوں، ان کےسہولت کاروں کیلئے کوئی جگہ نہیں، دہشت گردی کے تمام واقعات کے پیچھے ’را‘ ہے، انکو بلوں سے نکال کر انجام تک پہنچائینگے۔ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ دو سال میں دہشت گردوں سے نرمی کی پالیسی اپنائی گئی۔ادھر سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں در اندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔جبکہ پاک فوج کے4 جوان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ژوب میں پاک افغان سرحد کے قریب کارروائی کی اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سمبازہ کے قریب ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں آ رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک اور چند زخمی ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آپریشن کے دوران حوالدار ستار، لانس نائیک شیر اعظم، لانس نائیک عدنان اور سپاہی ندیم نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔دریں اثناء محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ مستونگ میں دھماکا کرنے والے خودکش حملہ آور کی شناخت کیلئے نادرا سے رابطہ کیا ہے۔ایک بیان میں سی ٹی ڈی کے ترجمان نے کہا کہ حملہ آور کے اعضا ڈی این اے کیلئے بھجوائے جا رہے ہیں، دھماکے کے مقام کی جیو فینسنگ بھی کرائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔دریں اثناء آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مذہب اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں، یہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کارپاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور انہیں مستونگ اور ژوب میں حالیہ دہشت گرد حملوں پربریفنگ دی گئی جبکہ نگران وفاقی وزیر داخلہ، نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، اہم صوبائی وزراء سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی بریفنگ میں شرکت کی۔ آئی ایس پی آر نے بتایاکہ شرکا نے مستونگ، ہنگو اور ژوب کے شہدا کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ آرمی چیف نے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کو بیرونی ریاستی سرپرستوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھاکہ مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیز، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑپھینکیں گے، پاکستانی عوام نے دہشت گردوں کے نظریے اور ان کے پشت پناہوں کے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام امن، معاشی ترقی اور انسانی ترقی کیلئے مکمل پرُعزم ہیں، اس کی وجہ سے پاکستان کے اندر اور باہر شر پسند قوتوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہے۔آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا بھی دورہ کیا اور مستونگ واقعے کے زخمیوں اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔جنرل عاصم منیر نے بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بہادری کو سراہا اور شہدا کے اہل خانہ کو مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے زخمیوں، شہداکے لواحقین کویقین دلایا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کوبخشا نہیں جائیگا۔دوسری جانب امریکا، ایران، متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت مختلف ممالک نے مستونگ اور ہنگو میں ہونے والے خودکش دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کیساتھ یکجہتی کا اظہار کردیا،پاکستان میں خودکش دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ حملوں میں نمازی اور عام افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں،پاکستان میں امریکی سفیرڈونلڈ بلوم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہوئی، نازک صورتحال میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا ہے، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے لڑنے کیلئے پاکستان سے تعاون کو تیار ہیں، متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت اورعوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جبکہ کویت کے امیر اور وزیراعظم کی جانب سے بھی پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کی گئی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جمعہ کو پاکستان میں ہونے والے دو الگ الگ دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ان حملوں کے بارے میں انتونیو گوتریس کا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں ہونیوالے دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔