دھرنا ، جنرل باجوہ نے کہا فوج ان معاملات کو ہینڈل کرنےکیلئے نہیں ہوتی، خاقان

01 اکتوبر ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دھرنا فیض آباد کی طرف آیا تو پنجاب پولیس نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی،احسن اقبال نے آئی جی پولیس کو کہا کارروائی نہ کریں ہم نے منصوبہ بندی کی ہے اس کے تحت کام کریں گے مگر ایسا نہ ہوا،جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ فوج اس قسم کے معاملات ہینڈل کرنے کیلئے نہیں ہوتی، میں نے ان سے کہا کہ ملک کا معاملہ ہے ہم سب کو مل کر طے کرنا ہوگا، فیض آباد دھرنے میں ریاست کی رٹ بہت متاثر ہوئی،سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کی طرف سے مذاکرات میں شامل تھے، یہ غیرمعمولی بات تھی کہ اعلیٰ فوجی افسران یا کسی وزیر کی طرف سے معاہدے پر دستخط کیے جائیں، اس طرح کے معاہدوں پر عام طور پر ڈی سی یا کمشنر دستخط کرتے ہیں، زاہد حامد کی مہربانی ہے انہوں نے استعفیٰ دے کر معاملہ ختم کیا، یہ واقعہ ہماری تاریخ کے کچھ سیاہ باب میں ایک اضافہ ہے، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے وقت میں وزیراعظم تھا، ہماری حالت یہ تھی کہ اسلام آباد میں زندگی اور سب سے بڑی سڑک مفلوج کردی گئی تھی، مجھے خود بھی ایئرپورٹ جانا ہوتا تو ہیلی کاپٹر پر جانا پڑتا تھا ،ہم بڑے ہی عجیب حالات سے گزر رہے تھے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھ میں بطور وزیراعظم کوئٹہ گیا تو وزیراعلیٰ سمیت پوری کابینہ غائب تھی، آج حالات کی کڑیاں جوڑیں تو 2013ء سے بھی پیچھے جانا پڑے گا، ن لیگ کے موقف میں تبدیلی کی وجہ پارٹی صدر بیان کرسکتے ہیں، ملک آج جہاں کھڑا ہے اس میں بہت بڑا ہاتھ 2018ء کے الیکشن کا ہے، جنرل باجوہ نے خود تسلیم کیا کہ ہم نے ہائبرڈ سسٹم بنایا ہے ،عمران خان کو اعتماد کیلئے ارکان انہوں نے پورے کرکے دیئے تھے۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست گزشتہ چھ سال سے قلابازیاں کھارہی ہے تحریک انصاف آج فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کو درست قرار دے ہی ہے جبکہ ن لیگ نے معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے ۔