ملک میں بڑھتی آبادی ترقی میں ریکاوٹ،بیروزگاری میں اضافہ،کنٹرول ضروری ،میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کاسیمینار

01 اکتوبر ، 2023

لاہور (ایم کے آر ایم ایس رپورٹ)مقررین نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی آبادی ترقی میں رکاوٹ ہے،بیروزگاری میں اضافہ کا باعث ہے،وقت کا تقاضا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جائے،روز بروز بڑھتی آبادی سے ملک کی اقتصادی ترقی میں بہت رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے آئی آر یم این سی ایچ اینڈ این پی، یو این ایف پی ا ے اور میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام سیمینار میں کیا۔ مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر تھے۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت اقصیٰ صادق نے حاصل کی نعت رسولؐ خلیق حامدنے پڑھی۔ سیمینار کی صدارت پروگرام ڈائریکٹر آئی آر ایم این ایچ اینڈ این پیڈاکٹر محمد خلیق احمداورایڈیشنل ڈائریکٹرسبین ناصر نے کی۔ جمال ناصر نے کہا بدقسمتی سے حکومت نے آج تک بہبود آبادی کے ادرے کی طرف توجہ نہیں دی پروفیسر محمود ایاز نے کہا کہ کھانا، صحت اور تعلیم Parlimentariansاور حکومت کا فرض ہے۔ آفتاب محسن نے کہا کہ اگرچہ بڑھتی آبادی کی روک تھام پر کام ہو رہا ہے مگر اتنا نہیں جتنا ہونا چاہئے۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ اولاد میں وقفہ بے حد ضروری ہے اصل ہدف اولاد کی تربیت ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ آبادی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے پارلیمینٹرینز اور میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد بھی کیا جائے۔ ایئر کموڈور خالد چشتی نے کہا کہ ملک کی موجودہ آبادی 240ملین ہے آبادی کی گروتھ ریٹ 109%ہے اگر آبادی کی روک تمام کے لئے کوئی لائحہ عمل نہ کیا گیا تو 2050تک یہ 380ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ رئیس انصاری نے کہا کہ سیمینار کا مقصد فنڈز اکٹھے کرنا نہیں اس پر عمل درآمد کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔قیوم نظامی نے کہا کہ آبادی میں اضافہ تشویشناک ہے یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے پاکستان کو چین سے سیکھنا چاہئے۔ سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو سمجھانا ہو گا غریب طبقہ آبادی میں اضافہ کی بہت بڑی وجہ ہے۔ ثمن رائے (ڈی جی ہیلتھ) نے کہا ہمیں آبادی کے مسائل کا شعور اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے طریقے دریافت کرنے چاہئیں آبادی میں اضافے سے بیروزگاری سمیت دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔ ڈاکٹر فرزانہ نے کہا فیملی پلاننگ دراصل میاں بیوی کا فیصلہ ہے کہ انہیں کتنے بچے چاہئیں اور کتنا وقفہ ڈالنا ہے۔ نادیہ رشید نے کہا کہ آبادی میں اضافہ پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ ملک کے وسائل بہت کم ہیں اور آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ طیبہ ضمیر نے کہا کہ ہماری آبادی کا بہت بڑا حصہ ریگستان اور صحرا میں بستا ہے ہمیں ان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ ڈاکٹر طیبہ وسیم نے کہا کہ بڑھتی آبادی پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ملک کی ترقی میں رکاوٹیں ہیں اس کی بڑی وجہ معیشت بھی ہے اور معاشرہ بھی، نگہت شیخ نے کہا کہ وسائل کے مطابق آبادی ہونا بہت ضروری ہے ۔ ڈکٹر زہرہ خانم نے کہا ویلفیئر پلاننگ، غربت، مہنگائی بڑھتی آبادی کی وجہ ہے ہمیں لوگوں کو شعور اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ سرفراز کاظمی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں فیملی پلاننگ کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر طوبیٰ بھٹی نے کہا کہ بڑھتی آبادی ملکی ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ ڈاکٹر قیس نے کہا کہ اس طرح کے سیمینارز ہوتے رہنے چاہئیں۔واصف ناگی نے کہا کہ پالیسیوں اور پروگرامز پر باقی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر عمل درآمد شروع کیا جائے۔