نواز شریف نے اپنے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کا احتساب اللہ پر چھوڑ دیا، اسحاق ڈار

01 اکتوبر ، 2023

لندن ( مرتضیٰ علی شاہ) پاکستان کے سابق وزیر خزانہ نے کہا ہےکہ نوازشریف کے ساتھ ناانصافی کرنے والے پہلے ہی ذلیل ہو کر منہ چھپا رہے ہیں اور انہوں نے ان لوگوں کا احتساب اللہ پر چھوڑدیا ہے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے بیانیے پر اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کے جج‘ باجوہ اور فیض پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکے ۔ نواز شریف کا فوکس معیشت اور اصلاحات پر ہو گا، وہ انتقام یا ذاتی سکور سیٹ نہیں کریں گے۔ اسحٰق ڈار نے نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ تعالی پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ انہیں اذیت دینے ‘ غیر قانونی‘ انتقامی اور غیر اخلاقی طریقوں سے اقتدار سے ہٹانے والوں سزا دے ۔ گزشتہ روز لندن میں نواز شریف کے عارضی پارٹی ہیڈ کوارٹر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف انتقام پر یقین نہیں رکھتے بلکہ وہ پاکستان کی معیشت اور ترقی پر توجہ دے کر آگے بڑھنے کی ضرورت پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔ مسٹر ڈار سے پوچھا گیا تھا کہ نوازشریف کا بیانیہ کیا ہوگا جس میں جنرل (ر) باجوہ،جنرل (ر) فیض اور پاناما کے ججز بشمول ثاقب نثار،عظمت سعید شیخ، آصف سعید کھوسہ،اعجاز الاحسن پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی جن پر نواز شریف نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ایک مربوط سازش کے ذریعے 2017میں ان کی حکومت کے خاتمے میں مرکزی کردار کیا تھا اور جو بالآخر عمران خان کو ہائبرڈ سسٹم میں اقتدار میں لایا ۔ اسحٰق ڈار نے یاد دلایا کہ نوازشریف نے 2017 میں اقامہ پر نااہل ہونے کے بعد یہ مشہور بات کہی تھی کہ انہوں نے اپنا معاملہ اللہ پر اس دعا کے ساتھ چھوڑ دیا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں سزا ملے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہی راستے ہیں انتقام اور ذاتی سکور سیٹ کرنا یا ملک اور معیشت کو ٹھیک کرنا ۔ نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا کہ قدرت نے اتنے کم وقت میں مجرموں کو بے نقاب کیا ہو۔ دیکھیں کیسے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو غیر منصفانہ سزا سنانے کا ویڈیو اعتراف کیا، کیسے جسٹس شوکت صدیقی نے نوازشریف کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو بے نقاب کیا اور قوم کو آگاہ کیا ۔ یہ سب سے تیز رفتاری سے ہوا کیونکہ نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا اور اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان واپسی پر نوازشریف کی تمام تر توجہ اور توانائیاں قوم کی تعمیر‘ قوم کو بحرانوں سے نکالنے‘ اقتصادی ترقی و اصلاحات‘ قوم میں خوشحالی لانے اور عوام کی مشکلات کو کم کر ک ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر مرکوز ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ نوازشریف کی ترجیحات ہوں گی۔ تاہم بیانیے کا فیصلہ کرنے والا لیڈر ہے اور نواز شریف نے 2017 میں ایک بیان کے طور پر کہا تھا کہ انہوں نے اپنا معاملہ اللہ رب العزت پر چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں مختصر عرصے میں ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والے ایک کے بعد بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ مسٹر ڈار نے کہا کہ اللہ نے ان کو بے نقاب کر دیا اور اللہ ان سے حساب بھی لے گا ۔ کچھ لوگ چھپ رہے ہیں‘ کچھ بھاگ رہے ہیں اور کچھ اپنا چہرہ دکھانے سے قاصر ہیں ۔ یہ سب کچھ اللہ کے انصاف کی بدولت ہو رہا ہے اور آج پوری دنیا یہ جانتی ہے کہ نوازشریف کے خلاف فراڈ پر مبنی اور جھوٹے مقدمات تھے انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی قیمت پاکستانی قوم کو چکانا پڑی ۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سب میں سب سے بڑا وکٹم پاکستان ہے، پاکستان کی ترقی کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا گیا ‘نواز شریف کے دور میں ملک معاشی ترقی کر رہا تھا اب پاکستان تباہی کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا بیانہ معیشت اور قوم کیلئے ہو گا جو پاکستان کو دوبارہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے وعدے کے ساتھ ہو گا ۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹ تاجروں کے خلاف حالیہ سخت اقدامات خوش آئند ہیں اور اس سے معیشت کو مدد مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی ) کی تشکیل درست سمت میں ایک قدم ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز اس کا حصہ ہیں اور اس کیلئے درکار وہیکل پہلے ہی پاکستان سوورین ویلتھ فنڈ کی شکل میں بن چکا ہے۔ اس کے تحت بہت سارے ذیلی فنڈز بنائے جائیں گے۔ یہ انقلابی اقدامات ہیں ۔ پاکستان کے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر ہم الیکشن جیت گئے تو مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دوبارہ میدان میں اترے گا ۔ تھورن ہاپ ہاؤس میں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف اور اسحٰق ڈاردونوں نے کہا کہ پی ایم ایل این اور نواز شریف کے بیانیے کی وضاحت اس حقیقت سے ہو گی کہ پاکستان نے 2013 سے 2017 تک نوازشریف کی قیادت میں ترقی کی اور پھر ان کی حکومت کو بیدخل کر دیا گیا اور پاکستان کی معاشی ترقی کا سفر رک گیا ۔ اسحٰق ڈار نے میڈیا کو بتایا کہ 21 اکتوبر کو پروگرام فائنل ہے اور میاں نواز شریف پاکستان واپس جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کے معمار ہیں ۔ یہ ان کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا ‘ سی پیک میں اربوں کی سرمایہ کاری کی‘ 12000 میگاواٹ بجلی پیدا کی ‘ ملک میں روزگار میں اضافہ کیا ۔ زراعت اور برآمدات نے پاکستان کی جی ڈی پی کو 6.5 فیصد سے بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف پاکستانی عوام کیلئے اور پاکستان کو دوبارہ خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے مقصد کے ساتھ وطن واپس آرہے ہیں ۔ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار ہفتے کو پاکستان واپس پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آمدن سے زائد اثاثوں کے دوبارہ کھولے جانے والے کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جھوٹا مقدمہ ہے جو جھوٹ اورغلط بیانی پر مبنی ہے ۔ میں نے اپنی زندگی میں ایک سیکنڈ کیلئے بھی اپنے ٹیکس گوشواروں کو مس نہیں کیا لیکن میرے بارے میں پہاڑوں جیسا بڑا جھوٹ بولا گیا کہ عمران خان کو لانے کیلئے مجھے ثاقب نثار کی قیادت والے سسٹم میں نشانہ بنایا جائے لیکن وہ پروجیکٹس بری طرح ناکام ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالتوں کے سامنے ثابت کروں گا کہ میں ایک معصوم اور بے گناہ آدمی ہوں جسے سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا ۔