فیض آباد دھرنا معاہدہ ،جنرل فیض حمید اصرار کرکے شامل ہوئے، احسن اقبال

03 اکتوبر ، 2023

کراچی (ٹی وی رپورٹ) ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ فیض آباد دھرنا معاہدے میں جنرل فیض حمید خود اصرار کر کے شامل ہوئے،میں اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی معاہدے پر جنرل فیض حمید کے دستخط کے حق میں نہیں تھے، جنرل فیض حمید نے اصرار کیا کہ انہوں نے دستخط نہ کیے تو تحریک لبیک معاہدہ نہیں مانے گی،ہم نے آگ روکنے کیلئے فیض آباد دھرنے والوں سے معاہدہ کیا تھا، رپورٹس تھیں چند جگہوں پر دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر کے فسادات ہوئے ہیں،نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آرہے ہیں، ن لیگ الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبہ کی حمایت نہیں کرتی۔ وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین بھی شریک تھے۔شعیب شاہن نے کہا کہ ہم کہتے ہیں مقبولیت کو قبولیت کی شرط نہ رکھی جائے، فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد مشکل لگتا ہے، ن لیگ حکومت کو فیض آباد دھرنے کے معاملہ پر جنرل فیض حمید کو شامل نہیں کرنا چاہئے تھا، حکومت اور مظاہرین کے درمیان گارنٹیئر بننا جنرل فیض حمید کا کام نہیں تھا۔ ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آرہے ہیں، ن لیگ الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبہ کی حمایت نہیں کرتی، مولانا فضل الرحمٰن اور شاہد خاقان عباسی کی الیکشن سے متعلق اپنی رائے ہے،، الیکشن ملتوی کرنے سے ملک میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگی، یقین ہے الیکشن کمیشن جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردے گا، موجودہ صورتحال کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو قرار نہیں دیا جاسکتا، پی ٹی آئی دور میں نئی مردم شماری ہوجاتی تو آج یہ تنازع پیدا نہیں ہوتا، فیض آباد میں تحریک ختم نبوت نہیں تحریک ختم حکومت تھی ،، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور میں زاہد حامد کے استعفے کے حق میں نہیں تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ مکافات عمل ہورہا ہے۔شعیب شاہین نے کہا الیکشن نومبر کے آخری ہفتے میں کروالیں اس وقت برفباری بھی نہیں ہوگی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو الیکشن جیتنے کا یقین ہوتا تو 60 دن میں الیکشن کروادیتیں، جسٹس (ر) جاوید اقبال ناپسندیدہ تھے تو ن لیگ نے سولہ ماہ میں انہیں لاپتہ افراد کمیشن سے کیوں نہیں ہٹایا۔