موجودہ مالی سال کیلئے بیرونی مالیاتی فرق 2.4 ارب ڈالرز

03 اکتوبر ، 2023

اسلام آباد (مہتاب حیدر) وزارت خزانہ نے بیرونی مالیاتی فرق کے محتاط تخمینوں پر کام کیا ہے اور اندازہ لگایا ہے کہ اگر تمام بیرونی رقوم کو مقررہ مدت کے اندر پورا کر لیا جائے تب بھی 2.4 ارب ڈالرز کا فرق ہو گا۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وزارت خزانہ نے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں اور موجودہ مالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی ضروریات کو پورا کرنے کی صورت میں 28.4 ارب ڈالرز کے کل اخراج کے مقابلے 26 ارب ڈالرز کے مساوی غیر ملکی قرضوں، رول اوور اور تیل کی سہولت کی شکل میں سرکاری ڈالر کی آمد کو محفوظ بنانے کا باضابطہ تخمینہ لگایا ہے جو موجودہ مالی سال کے لئے 2.4 ارب ڈالرز کے بیرونی مالیاتی فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 26 ارب ڈالرز کی بیرونی آمدن پر کام کیا ہے جس میں سے موخر ادائیگیوں پر رول اوور اور تیل کی سہولت کی شکل میں سعودی عرب اور چین سے 11 ارب ڈالرز کی فراہمی ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب سے 6 ارب ڈالرز کے مساوی ممکنہ آمدن کا تصور رول اوور اور تیل کی سہولت کی صورت میں کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال میں سیف ڈپازٹس کے رول اوور اور غیر ملکی قرضوں کی کمرشل ری فنانسنگ کی صورت میں چین سے 5 ارب ڈالرز ملنے کا امکان ہے۔ حکومت رواں مالی سال کے دوران عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، اور ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک جیسے کثیر جہتی قرض دہندگان سے 6.3 ارب ڈالرز کا تخمینہ لگا رہی ہے۔ اگرچہ تقسیم کی رفتار اب تک مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی ہے حکومت رواں مالی سال سے پہلے کے مہینوں میں ادائیگیوں میں تیزی لانے کے لیے پر امید ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے آئی ایم ایف سے نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالرز کا تصور کیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی 1.2 ارب ڈالرز محفوظ بنا چکا ہے اور اس سال دسمبر تک پہلی قسط مکمل ہونے اور دوسری قسط کے اجراء کی صورت میں اسے مزید 700 ملین ڈالرز ملنے کی توقع ہے۔ توقع ہے کہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں جائزہ کی تکمیل اور آئی ایم ایف سے قسط کے اجراء کے لیے جائزہ مذاکرات کرے گا۔ دوسرا جائزہ فروری 2024 میں متوقع ہے اور آئی ایم ایف سے تقریباً 1 ارب ڈالرز مالیت کی تیسری قسط کا اجراء متوقع ہے۔