حماس کی فوجی کارروائی ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کی دھمک پوری دنیا میں محسوس کی گئی ہے۔ ایک طرف اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے زمین بوس نظر آرہے ہیں۔ دوسری جانب دنیا تین بلاکس میں بٹ چکی ہے اور امریکی معاشرے سمیت دنیا بھر میں رائے عامہ کا وزن حق و انصاف کے پلڑے کی طرف محسوس ہورہا ہے۔ منگل کے روز دنیا نے حیرت کے ساتھ یہ خبر سنی کہ اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو شہرخالی کرنے کا انتباہ دیا تو جواب میں حماس نے عسقلان (اشکلون) کے شہریوں کو دو گھنٹے میں شہر چھوڑنے کا انتباہ جاری کردیا جس کے خاتمے پر 100میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ غزہ کی آبادی کی ناکہ بندی کرنے اور فاسفورس بم استعمال کرنے جیسے انتہا کو پہنچے ہوئے غیر قانونی اقدامات کے باوجود حماس کو قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کیلئے جھکانے میں اسرائیل کی ناکامی دنیا کو بہت سمجھا رہی ہے۔ تاہم ایک خبر یہ بھی ہے کہ غزہ پر مسلسل فضائی حملوں کے جواب میں بن گوریان ایئرپورٹ پر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے حملے کئے ہیں اور لبنانی سرحد پر صہیونی بریگیڈ کمانڈر مارا گیا ہے۔ اسرائیل فاسفورس بم کے استعمال سمیت ہر قسم کے غیر قانونی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ فلسطینیوں کے زندہ اور آزاد رہنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیئے جاتے جن میں مذکورہ نوع کی خبریں آرہی ہیں۔ عالمی میڈیا کے تبصروں کی صورت میں جو جائزے سامنے آرہے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ درپیش صورتحال نے دنیا کو تین بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک گروپ کی قیادت مغرب اور بھارت کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے انتہا پسندانہ پالیسی بروئے کار لا رہے ہیں۔ دوسرے گروپ میں چین، روس اور گلوبل سائوتھ کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔ یہ گروپ دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا اور اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کے مغرب کے طرز عمل کی مذمت کرتا ہے۔ اس بلاک میں کچھ عرب یا غیر عرب مسلم ممالک کی حکومتیں ہیں۔ ایران کی قیادت میں تیسرا گروپ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے جبکہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دے کر کہا ہے کہ انکا ملک ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ آپریشن میں فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول کے لئے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ کے مطابق اسرائیل حماس تنازع پر امریکیوں کی رائے منقسم ہے۔ مختلف گروپس حملے کی بنیادی وجہ پر متضاد آرا کا اظہار کرتے ہیں۔ ہاورڈ یونیورسٹی گروپ اسرائیلی حکومت کو تشدد کے پھیلائو کا مکمل ذمہ دار سمجھتا ہے جبکہ اسرائیل نواز اسٹینڈو داس گروپ نے حماس کی کارروائی کو امریکہ پر القاعدہ کے حملے سے تشبیہ دی ہے۔ امریکہ میں رائے عامہ تیزی سے منقسم ہوئی کیونکہ بیانیہ کی وسیع جنگ نے زور پکڑلیا ہے۔ خاص طور پر حماس کے حملے کی وجہ پر، اس اختلاف کے ساتھ کہ آیا غزہ اب بھی مقبوضہ ہے۔ ہسپانوی اخبار ’’ایل پائیں‘‘ کے تجزیے کے مطابق اسرائیل حماس تنازع دنیا میں ایک دھماکہ خیز محاذ ہے اور اس کے اثرات کئی انداز میں محسوس ہوسکتے ہیں جن میں اسرائیل سعودی مذاکرات میں سردمہری، مغرب اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی اسرائیل کے حامیوں پر دہرے معیار کے الزامات وغیرہ ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر ظلم کی حد ہوتی ہے۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کا حق آزادی اور حق خودارادیت سلب کرنے کے علاوہ ان کو ظلم اور تشدد کے جن ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ان سے پیدا ہونے والے لاوے باہر نکلنے کے لئے راستہ بناتے رہے ہیں اور کھولتے لاووں کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟۔
بدقسمتی سے پاکستان میں عدل کا مقدس ستون آج سنگین بحرانوں کی زد میں ہے۔ جب انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی...
ہیں الگ ایک دوسرے سے ہم ساتھ وہ ایک دوسرے کے ہیںامن کے دوستوں میں دُوری ہےامن کے دشمنوں میں ایکے ہیں
کردار……اقبال خورشیدہزاروں سال بعد جب زمین پر انسان ختم ہو جائیں گے،اور دیگر سیاروں کی مخلوق زمین پر اترے...
مئی 2026ءمیں جب استنبول کے جدید ایکسپو سینٹر میں saha 2026بین الاقوامی دفاعی نمائش کے دروازے دنیا پر کھلے تو یہ محض...
پاکستان ایک عظیم نعمت ہے، ایک ایسا وطن جو لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔ یہ سرزمین صرف جغرافیائی حدود...
کچھ لوگوں کیلئے شاید یہ اچنبھے کی بات ہو کہ انڈین آئین کے خالق بھیم راؤ رام جی امبیڈکر 1946 کی برطانوی ہند کی...
اہل مشرق پندرہویں صدی عیسوی میں چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد سے اس انقلاب سے منقطع ہو گئے جسے معروف اصطلاح میں...
میرے گھرمیں ایک ایریا ہے جہاں مختلف پودے اور درخت موجود ہیں۔مالی چاچا بڑی محبت سے انکی دیکھ بھال کرتاہے لیکن...