پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ،اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت ،سیز فائر کا مطالبہ غیر معمولی سنگین صورتحال عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے، دفتر خارجہ

13 اکتوبر ، 2023

کراچی (جنگ نیوز) پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینی شہری آبادی پر ’غیر متناسب اور اندھادھند بمباری‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔جبکہ نگراںوزیراعظم انوار الحق نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ فلسطین میں اسرائیل کی حالیہ جارحیت، ظالم اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کی جنگ ہے۔ پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ انکے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حصول تک شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے ساتھ مل کر غزہ میں سیز فائر پر کام کرے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ کی ’مکمل‘ ناکہ بندی کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا، ایندھن سمیت اہم ضروریات کی چیزوں کی فراہمی کا راستہ روک دیا ہے اور پانی کی سپلائی بھی منقطع کردی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بجلی، ایندھن اور پانی کی سپلائی منقطع کرنے کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر شدید منفی اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جارحیت اور تشدد کا موجودہ دور ایک افسوسناک یاد دہانی ہے، اور 7 دہائیوں سے زائد غیر قانونی غیر ملکی قبضے، جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا براہ راست نتیجہ ہے، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں، جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرتی ہیں۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان، اسرائیل کے حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں کے سنگین نتائج کے خلاف خبردار کرتا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی سنگین صورتحال عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے۔پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی میں سہولت کاری کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطین کی ایک قابل عمل، خودمختار اور متصل ریاست کے ساتھ ایک منصفانہ جامع اور دیرپا 2 ریاستی حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس شریف (یروشلم) ہو۔