جب مزاحمت دلوں میں بس جائے

مظہر برلاس
13 اکتوبر ، 2023
لبنان سے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر چڑھائی کر دی ہے، راکٹ داغے جارہے ہیں، موت سے بے پروا سینکڑوں کی تعداد میں پیرا گلائیڈرز لبنان سے اسرائیل میں داخل ہو رہے ہیں، حزب اللہ کی حالیہ کارروائی نے باقی عرب نوجوانوں کے دلوں کو بھی گرما دیا ہے، اب شائد کئی عرب ملکوں کیلئے اسرائیل کی حمایت مشکل ہو جائے کیونکہ دنیا بھر میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں، جہاں تک فلسطینیوں کی بات ہے تو ان کے دلوں میں مزاحمت بسی ہوئی ہے اور جب مزاحمت کا سفر نسلوں پر محیط ہو تو پھر ایسے جذبوں کو شکست دینا مشکل ہو جاتا ہے، خواہ دوسری طرف اسرائیل، امریکہ اور اس کے بے لگام حواری ہی کیوں نہ ہوں، فلسطینیوں کی مزاحمت کا تذکرہ کرتے ہوئے عائشہ غازی بتاتی ہیں کہ ’’چند مہینے پہلے میں نے اردن میں موجود فلسطینی مہاجرین کے کیمپوں میں کچھ دن گزارے، یہ میری زندگی کا یاد گار ترین وقت تھا۔ یہ چند دن ایسے تھے گویا میں نے’’مزاحمت‘‘ کی نفسیات پر کئی کتابیں پڑھ ڈالی ہوں۔ میں فرانس میں شامی مہاجرین سے لے کر بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین تک کئی مہاجر کیمپوں میں وقت گزارنے کے بعد سوچنے لگی تھی کہ سب مہاجر کیمپوں میں ایک جیسی نفسیات، ایک جیسی نفسا نفسی، ایک جیسا غم اور ایک جیسی مفلوک الحالی ہوتی ہے لیکن فلسطینیوں نے میری سوچ بدل دی۔ دنیا کو ان لوگوں سے حق کی جنگ میں مزاحمت سیکھنی چاہیے۔ میرے لئے حیران کن تھا کہ کیسے اسی سال کے بوڑھے سے لیکر آٹھ سال کے بچے تک ایک جیسے عزم کے ساتھ مزاحمت پر یکسو ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ چار نسلیں ایک جیسے جذبات کے ساتھ اپنے وطن واپس جانے کے عزم پر قائم ہوں؟ ایک اسی سالہ فلسطینی خاتون جو 1948 میں اپنے والد کے کندھوں پر ہجرت کر کے فلسطین سے اردن آئی تھیں، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی ساری زندگی یہاں گزر گئی، اب آپ کی اگلی تین نسلیں یہاں موجود ہیں، اگر آپ کو فلسطین واپس جانے کا موقع ملے تو کیا آپ واپس جائیں گی؟ ایک لمحے کے توقف کے بغیر انہوں نے جواب دیا :’’بغیر جوتوں کے‘‘... یعنی میں جوتے پہننے میں بھی وقت ضائع نہیں کرونگی.. اسی طرح ایک سات سال کے بچے سے پوچھا کہ تم تو یہاں اردن میں ہو، تم بڑے ہو کر فلسطین کو بھول جاؤ گے... تو وہ غصے میں آ گیا، کہنے لگا ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ میں فلسطینی ہوں اور فلسطین میرے دل میں بستا ہے‘‘... میں سوچتی رہی کہ مزاحمت کی ایک جیسی شدت نسل در نسل چلتے رہنا کیسے ممکن ہے؟.. اس کا جواب فلسطینی عورت ہے۔ جس نے فلسطینیت اور مزاحمت کی لو ماند نہیں پڑنے دی، ہر فلسطینی عورت اس تحریک میں بطور ماں شریک ہے جو بچوں کی تربیت کے ذریعے محاذ پر کامیابی سے کھڑی ہے، یہ مائیں ہی ہوتی ہیں جن کے سبب کوئی تحریک، کوئی نظریہ اور کوئی تہذیب زندہ رہتی ہے۔ مہاجر کیمپوں میں ہر گھر میں دیوار پر چابی لٹکی نظر آئی۔ اس کی وجہ پوچھنے پر میری فلسطینی میزبان نے بتایا کہ ہم فلسطینیوں کی مزاحمت کا نشان ’’چابی‘‘ ہے... ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارے گھروں پر بے شک کسی کا قبضہ ہو لیکن اس کی چابی تمہارے پاس ہے۔ ان مہاجرین کے تمام گھروں میں فلسطین کا نقشہ دیوار پر لگا ہوتا ہے جس میں نشان لگا کر اس علاقے کی وضاحت ہوتی ہے جہاں انکا گھر تھا۔ یہ لوگ ہر سال مئی میں اپنی ہجرت کا دن مناتے ہیں جس کی تیاری کئی دن پہلے سے شروع کر دی جاتی ہے، اس دن خاندان کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور بوڑھے اپنی ہجرت کی پوری تفصیل بچوں کو سناتے ہیں کہ کون سے علاقے کے کس گائوں سے انکا تعلق تھا اور انکے کھیتوں میں کونسی فصلیں کاشت ہوتی تھیں، انکے گھروں کے دروازے کیسے تھے اور انکے صحنوں میں کون سے پھلوں کے درخت تھے۔ بوڑھے نئی نسل کو بتاتے ہیں کہ انہیں کس طرح گھروں سے بے دخل ہونا پڑا اور ان پر کیا مشکلات گزریں، وہ اپنی گفتگو میں بارہا یہ تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ اور ان کی نسلیں جہاں قیام پذیر ہیں، عارضی ہیں، انہیں اپنے وطن فلسطین واپس جانا ہے۔ یہ جان کر مجھے بے حد حیرت ہوئی کہ یہ فلسطینی مہاجر صرف اس لئے اردن کی شہریت نہیں لیتے کہ کہیں ان کا فلسطین کی زمین پر حق ختم نہ ہو جائے حالانکہ اردنی انہیں شہریت دینا چاہتے ہیں کیونکہ شہریت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں ملتے اور نہ ہی میڈیکل کی مفت سہولیات ملتی ہیں یہ دنیا میں واحد مثال ہے، میں نے کسی اور قوم کے مہاجرین کو مزاحمت کے اس معیار پر نہیں دیکھا۔ جن لوگوں نے اپنا حق سہولتوں کے بدلے نہیں بیچا، انہیں ختم کرنا تو ممکن ہے مگر انہیں شکست دینا ممکن نہیں۔ اب حالات جو کروٹ لیتے نظر آ رہے ہیں، اس کے حساب سے فلسطینیوں پر زمین مزید تنگ ہونے والی ہے، خاص طور پر غزہ کے مسلمانوں کیلئے۔ نہ صرف فلسطینیوں بلکہ مستقبل قریب میں مصر، لبنان اور سعودیہ میں بھی مشکل آنیوالی ہے۔ شام اور عراق پہلے ہی مصیبتوں میں گھرے ہیں۔ خدائے لم یزل پر عزم فلسطینی مسلمانوں کی آزمائش آسان کر دے تاکہ وہ اپنے وطن کو لوٹ سکیں، بے وطن تو بہاریں بھی بے رنگ ہوتی ہیں۔ فیض صاحب نے فلسطین سے متعلق کہا تھا کہ
دور پردیس کی بے مہر گزر گاہوں میں
اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں
جس زمیں پر بھی کھلا میرے لہو کا پرچم
لہلہاتا ہے وہاں ارض فلسطیں کا علم
تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد