حالات تیزی سے مائنس ون سے مائنس ٹو کی طرف جانے لگے

13 اکتوبر ، 2023

اسلام آباد (تجزیہ:انصار عباسی) جیسے جیسے حالات تبدیل ہو رہے ہیں، ممکن ہے 2024ء کے عام انتخابات میں ملک کے دو اہم ترین سیاست دان (عمران خان اور نواز شریف) حصہ لینے کے اہل نہ رہیں۔ اس وقت دونوں شخصیات الیکشن لڑنے یا کوئی عوامی عہدہ رکھنے کیلئے نااہل ہیں۔ عموماً عمران خان کے حوالے سے حال ہی میں مائنس ون کی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے الزامات کو کلیئر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ نون لیگ اب بھی یہی سمجھتی ہے لیکن سپریم کورٹ کے ’’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘‘ کے متعلق تازہ ترین فیصلے کی وجہ سے نواز شریف کے الزامات کلیئر ہونے کے امکانات کم ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ اس ایکٹ کو برقرار رکھا ہے لیکن عدالت نے سیکشن 5 کے ذیلی دفعہ (2) کی توثیق نہیں کی، جس میں اپیل کا حق دیا گیا تھا۔ مذکورہ ذیلی دفعہ کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ ریٹرو اسپیکٹیو اپیل کا حق ختم ہونے کے نتیجے میں نواز شریف اپنی تاحیات نا اہلی کیخلاف اپیل دائر نہیں کر پائیں گے۔ سیکشن 5 کے ذیلی سیکشن (2) کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے ختم کیے جانے کے بعد نون لیگ اب ایک اور متنازع قانون ’’الیکشن ایکٹ 2017‘‘ پر انحصار کر رہی ہے، اس قانون میں پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران ترمیم کی گئی تھی۔ نون لیگ اس بات پر اصرار کرے گی کہ نواز شریف کی تاحیات نا اہلی اب غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232؍ میں ترمیم کی گئی تھی اور اس میں نا اہلی کا عرصہ پانچ سال مقرر کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ آئین میں سزا کی مدت متعین نہ ہونے پر رکن پارلیمنٹ کی نااہلی پانچ سال کیلئے تصور کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس میں صادق اور امین نہ ہونے پر میاں نواز شریف کو آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔ نون لیگ کی رائے ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم نواز شریف کو فائدہ دے گی اور انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ وہ اپنی نااہلی کی پانچ سالہ مدت پوری کر چکے ہیں۔ تاہم دیگر لوگوں بشمول ماہرین قانون کا اصرار ہے کہ آئینی ترمیم یا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بغیر نواز شریف کی تاحیات نااہلی قانون میں ترمیم کی بنیاد پر پانچ سال تک کم نہیں کی جا سکتی۔ مذکورہ ترمیم سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بھی متصادم ہے جس میں آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت تاحیات نااہلی کا حکم دیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کیلئے اب واحد امید احسن بھون کی سربراہی میں پاکستان بار کونسل کی پٹیشن ہے جس میں پارلیمنٹیرینز کی تاحیات نااہلی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ نواز شریف اپنی چار سالہ جلاوطنی کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ نون لیگ کے قائد بحیثیت مجرم واپس آ رہے ہیں جنہیں اگر حفاظتی ضمانت نہ ملی تو کرپشن کے دو مقدمات (ایوین فیلڈ اور العزیزیہ) میں اضافی سزاؤں کی وجہ سے انہیں ایئرپورٹ سے ہی جیل جانا پڑے گا۔ لہٰذا نواز شریف کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ ان کرپشن کیسز میں خود کو بری کرالیں اور ساتھ ہی پانامہ کیس میں تاحیات نااہلی کے فیصلے کو تبدیل کرا دیں۔ دوسری جانب عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں مجرم قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کی سزا اگرچہ معطل ہو چکی ہے، لیکن ان کی سزا کی وجہ سے وہ پانچ سال کیلئے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے نااہل ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف نے ان کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے اور عموماً ایسی سزاؤں کیخلاف اپیلوں کی جلد سماعت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ، عمران خان، جو اب تک جیل میں ہیں، سائفر کیس کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر شاہ محمود قریشی کے ساتھ اگلے ہفتے سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے والی ہے۔ اس کیس کا اختتام چند ماہ میں متوقع ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کیخلاف کچھ اور سنگین مقدمات بھی تیار ہو رہے ہیں۔