وڈھ، موچے خالی کرنے کیلئے 4 دن کی حکومتی ڈیڈ لائن، بی این پی نے احتجاج اور ہڑتال کی کال دیدی

13 اکتوبر ، 2023

کوئٹہ (نمائندہ جنگ) بی این پی نے وڈھ میں مورچے خالی کرنے کیلئے 4 دن کی حکومتی ڈیڈ لائن پر احتجاج اور ہڑتال کی کال دے دی،بی این پی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا ہے کہ پارٹی اور اس کے سربراہ کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں حکومت مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات کا سلسلہ شروع اور اس حوالے سے قائم کمیٹی کو فعال کرے وڈھ کی صورتحال پر15 اکتوبر کو بلوچستان بھر میں خواتین و بچوں کے مظاہرے، 18 اکتوبر کو مظاہرے، 20 اکتوبر کو شٹر ڈاؤن اور 26 اکتوبر کو قومی شاہراہوں پرپہیہ جام کیاجائے گایہ بات انہوں نے جمعرات کوپارٹی رہنمائوں موسیٰ بلوچ،ساجد ترین ایڈووکیٹ،غلام نبی مری،شکیلہ نوید دہوار، ٹکری شفقت لانگو،چیئرمین جاوید بلوچ و دیگر سمیت کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ وڈھ کی صورتحال تین ماہ سے کشیدہ ہے حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے حالات کی بہتری کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گے جس کی وجہ سےحالات کشیدہ اور کاروبار زندگی مفلوج ہےانہوں نے کہا کہ وڈھ کے معاملے کوغلط رنگ دیا جارہا ہے، بی این پی کا بلوچستان اوریہاں کے لوگوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے پارلیمنٹ سمیت فورم پر موقف واضح ہےگزشتہ دنوں اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے ایجنڈے میں وڈھ کے مسئلے کو بھی شامل کیا گیا تھااور فریقین کو 23 جون کی پوزیشن پر واپس جانے کے لئے کہا گیاہے اصل مسئلہ ان متنازعہ مورچوں کا ہے جن کے ذریعے سردار اختر مینگل کے گھر کو نشانہ بنایا ہے جس کیلئے بد امنی پھیلائی جارہی ہے ہمارا موقف ہے ان تمام متنازع مورچوں کو ختم کیا جائے، نواب اسلم رئیسانی اور مولانا محمد خان شیرانی سمیت دیگر قبائلی و سیاسی رہنماؤں و حکومتی سطح پر تشکیل دی جانے والی کمیٹی کو سردار اختر مینگل نے مکمل اختیار دیا ہے لیکن دوسرے فریق نے انہیں اختیار نہیں دیا جس کی وجہ سے تمام چیزیں خراب ہوتی جارہی ہیں حالات کی خرابی کی وجہ سے 25 سے 30 ہزار لوگ علاقے سے نقل مکانی کرچکے ہیں، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے والے غیر محفوظ ہیں۔