نواز، عمران، زرداری قانونی راستہ اپنائیں، ہر ایک کو مقدمات کیلئے قانونی سہولت ملے گی، کسی کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں، ڈیل کیسے ہوسکتی ہے، نگراں وزیراعظم

13 اکتوبر ، 2023

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نواز شریف ، عمران خان ،آصف علی زرداری سمیت تمام افراد قانونی راستہ اپنائیں ، ہر ایک کو مقدمات کیلئے قانونی سہولت ملے گی، کسی کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں، ڈیل کیسے ہوسکتی ہے، وقت پر انتخابات کرانے کی تیاریاں مکمل ہیں، جنوری میں الیکشن سے متعلق مطمئن ہوں، بلوچستان میں سکیورٹی اور گورننس جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا فی الحال کوئی امکان نہیں، اسرائیل ایک غاصب ریاست، سردیوں میں الیکشن سے متعلق مولانا کے بیان سے اتفاق نہیں کرتا، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) میں فوج معاون کردار ہے اور کونسل کے فوائد سب نے سیکھ لئے اس لئے اس کا جاری رہنا ضروری ہوگا، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں سے جڑے معاملات پر اپنی مشق پوری کرچکا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک انٹرویو میں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا نواز شریف جب ایک عدالتی فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے تو اس وقت عمران خان کی حکومت تھی، اس وقت نہ تو اس نگران سیٹ اپ اور نہ ہی پی ڈی ایم جماعتوں کی حکومت تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو وطن واپسی پر کچھ قانونی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان سوالات کے جوابات بھی قانونی ہیں۔ انوارالحق کاکڑنےمسلم لیگ نواز کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے تاثر کو بھی مکمل طور پر مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ نگراں وزیر اعظم بننے سے قبل میری مریم نواز ، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، آصف زرداری اور 9 مئی کےواقعات سے قبل عمران خان سے بھی ملاقاتیں ہوئیں لہٰذا کسی ایک ملاقات کو ایک جماعت سے جوڑ دینا انصاف پر مبنی نہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سمیت کسی بھی سیاسی شخصیت کے بارے میں جو بھی کوئی فیصلہ ہو گا وہ عدالتی عمل کے نتیجے میں ہو گا۔ اگر عدالتی عمل کے نتیجے میں عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملتی ہے تو وہ حصہ لیں گے لیکن اگر نہیں تو میں کیسے اس پابندی کو ختم کر سکتا ہوں۔ انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ان کی الیکشن کمیشن آف پاکستان سے جتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں ان کے مطابق انتخابات کی تیاریاں مکمل ہیں اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے لیکن انتخابات میں سکیورٹی کے حوالے سےخدشات دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، حلقہ بندیوں سمیت دیگر معاملات پر کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔ جس تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا اس پر انتخابات ہو جائیں گے۔