پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات کیلئے پی آئی سی کی پٹرولیم سیکرٹری سےدرخواست

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات کے لئے پی آئی سی نے پٹرولیم سیکرٹری سے درخواست کی ہے۔ دوسری جانب اوگرا نے ہڑتال پر سخت نوٹس لیا ہے، اوگر کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر کرنیوالوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق، حکومت پنجاب کے صوبائی انٹیلی جنس سینٹر (پی آئی سی) نے سیکرٹری پٹرولیم سے درخواست کی ہے کہ وہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات کرکے انہیں ہڑتال سے روکیں بصورت دیگر پٹرولیم مصنوعات کی عدم فراہمی سے معمولات زندگی مفلوج ہوجائیں گے۔ یہ درخواست پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے آج سے ہڑتال کے فیصلے کے پیش نظر کی گئی ہے، جس کی وجہ حکومت کی موٹر گیسولین اور ڈیزل کے مارجن میں 25.20 فیصد کے اضافے میں ناکامی ہے۔ فی الوقت پٹرول پر ڈیلرز مارجن 3.91 روپے فی لیٹر ہے اور ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ یہ 4.90 روپے ہو۔ اسی طرح ڈیزل پر ڈیلرز مارجن 3.30 روپے فی لیٹر ہے اور ڈیلرز ایسوسی ایشن اسے 4.13 روپے تک بڑھانا چاہتی ہے۔ یہی بات ای سی سی نے سمری کی صورت میں پٹرولیم ڈویژن کو بھی بھجوائی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کا مارجن بھی 23.32 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے اور اسے پٹرول اور ڈیزل کے لیے 2.97 روپے سے بڑھا کر 3.68 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 22 نومبر کو ای سی سی نے او ایم ایسز اور ڈیلرز کے مارجن کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ذیلی کمیٹی چاہتی تھی کہ کمیٹی کے تمام ارکان کی رائے کے ساتھ سمری کو آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ دریں اثناء پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سمری کو ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس ضمن میں فیصلہ آئندہ 10 روز میں ہوگا۔ پٹرولیم ڈویژن اضافی مارجن کے لیے ای سی سی سے منظوری لینے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس او، شیل اور ٹوٹل کے پٹرول پمپس کھلے رہیں گے، قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، ڈیلرز کے آپسی اختلافات کی وجہ سے ملک بھر میں جزوی ہڑتال ہوسکتی ہے کیوں کہ آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے 25 نومبر کی ہڑتال سے اعلان لاتعلقی کردیا ہے۔ آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر شمس شاہوانی کا کہنا تھا کہ آئل ڈیلر ایسوسی ایشن نے دوبارہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ہماری ایسوسی ایشن کا اس ہڑتال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کو کسی قسم کی پریشانی ہوئی تو ہم کسی قسم کی ہڑتال کو برداشت نہیں کریں گے۔ جب کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما نعمان علی بٹ کا کہنا تھا کہ ڈیلرز دوبارہ نومبر سے قبل مارجن میں اضافے کے خواہاں ہیں اور فائل پٹرولیم ڈویژن کے پاس گزشتہ تین برس سے مارجن میں اضافے کے لیے پڑی ہوئی ہے، لیکن پٹرولیم ڈویژن کسی بھی قسم کے اضافے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں 50 او ایم سیز کے پٹرول پمپس ہیں جو کہ پٹرول اور ڈیزل کی طلب پوری نہیں کرسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 8 ہزار پٹرول پمپس خالی ہوجائیں گے اور حکومت آئل ٹینکرز کو پٹرول پمپس پر اسٹوریج کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے، حالاں کہ حکومت جانتی ہے کہ آئل ٹینکرز کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یقینی طور پر پٹرول اور اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوگا جو یا تو حکومت ادا کرے گی یا پھر صارفین ادا کریں گے۔ اگر ڈیلرز مارجن میں اضافہ نہ ہوا تو پٹرول پمپس کے پاس اسے بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ دریں اثناء اوگرا نے آئل سپلائی کو متاثر کرنے والوں اور اداروں کا سخت نوٹس لیا ہے۔ اوگرا ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ریٹیل آئوٹ لیٹس پر آئل کی فراہمی یقینی بنائیں ۔ اوگرا کی ٹیمیں اس پر عمل درآمد کے لیے فیلڈ میں ہیں، جو بھی پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر کرنے میں ملوث پایا گیا اس سے اوگرا قوانین کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے بھی درخواست کی ہے کہ ہڑتال سے گریز کیا جائے اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ اگر ڈیلر ایسوسی ایشن ہڑتال کرتی ہے اور ریاستی ادارے کو بلیک میل کرتی ہےتو ہم ان کی معاونت نہیں کریں گے۔ہمارے ڈرائیورز اور کلینرز بھی ہڑتال کی مخالفت کررہے ہیں۔