آڈیو ٹیپس،ثاقب نثار بتائیں ہمیں سزا دینے کیلئے کس نے مجبور کیا، مریم

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے سابق چیف جسٹس کی لیک آڈیو کو ثاقب نثار کیخلاف چارج شیٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثاقب نثار بتائیں مجھے اور نوازشریف کو سزا دینے کیلئے کس نے مجبور کیا، وہ کون تھا جسے بطور چیف جسٹس بھی انکار نہ کر سکے، نواز شریف کے حق میں پانچویں گواہی، سابق چیف جسٹس تو اپنی بے گناہی میں کچھ نہیں کہہ رہے لیکن حکومت کے ورزا جواب دینے کیلئے ہلکان ہو رہے ہیں، وہ ثاقب نثار کے بےنقاب ہونے پر اپنے گناہوں سے ڈرتے ہیں، ثاقب نثار چپ، وزرا دفاع کرتے ہلکان ہو رہے ہیں، آج نہیں تو کل یہ سچ اُگلنا ہوگا، پاناما میں 450افراد تھے کسی اور کو تو کچھ نہیں کہا۔ اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور جنرل سیکرٹری احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پہلے ثاقب نثار نے کہا تھا کہ یہ آواز انکی نہیں ہے، ثاقب نثار کو آج نہیں تو کل سچ بتانا پڑیگا۔ ثاقب نثار بتائیں کس نے انہیں کہا کہ عمران خان کو لانا ہے، ثاقب نثار بتائیں آپ غیر قانونی اقدامات پر کیوں مجبور ہوئے اور وہ کون تھا جسے آپ بطور چیف جسٹس انکار نہیں کر سکتے تھے۔ پاناما میں 450 افراد کے نام آئے،کسی کو کچھ نہیں کہا گیا جس کا نام نہیں آیا اس کو سزا دی گئی، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیراعظم کو آفس سے باہر نکالا گیا۔ نامور امریکی ادارے سے آڈیو کی فرانزک کی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ آڈیو ایڈیٹڈ نہیں ہے۔ جب یہ آڈیو سامنے آئی تو ثاقب نثار صاحب کا کہنا تھا کہ یہ انکی آڈیو نہیں ہے، بعد ازاں ایک چینل کی مدد سے انہوں نے قبول کیا اور کہا کہ یہ آڈیو توڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے فیصلے ادارے دیتے ہیں آڈیو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لانا ہے تو نواز شریف کو سزا دینی ہوگی، اور بیٹی کو بھی سزا دی جائے۔مریم نواز نے کہا کہ میں پروپیگنڈا کرنے والے چینل کو کہنا چاہتی ہوں کہ وہ جملے بتائیں جو آپ چھپا رہے ہیں اور ہماری رہنمائی کریں کہ یہ جملے جسٹس ثاقب نثار نے کس تقریر میں کہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز نے اگر کوئی الزام لگایا ہے جس میں آپ نے اعتراف کیا ہے کیا وہ ویڈیو بھی جھوٹی ہے۔انکا کہنا تھا کہ شوکت عزیز کی گواہی کے بعد ارشد ملک جنہوں نے نواز شریف کو سزا سنائی تھی اس وقت جو میں نے ویڈیو ریلیز کی تھی عوام کے سامنے ہے۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا، جسٹس کھوسہ صاحب نے اس وقت کہا تھا کہ فیصلہ عدلیہ کے چہرے پر کالا دھبہ ہے آپ نے اس جج کو نکال دیا لیکن وہ فیصلہ اب بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے جج کا بیان حلفی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس صاحب نے کسی کو فون کیا جس میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل مریم اور نواز شریف کو ضمانت نہیں دینی۔ آڈیو اور ویڈیو میں شک و شہبات ہوسکتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے چیف جج اور شوکت عزیز حیات ہیں انہیں بلا کر اس حوالے پوچھیں اور اپنی بے گناہی ثابت کریں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر تمام شواہد کو چھوڑ دیا جائے جس میں جسٹس شوکت عزیز، گلگت بلتستان کے چیف جج سمیت تمام افراد کی گواہی جھوٹی بھی ہے تو یہ نواز شریف کے حق میں پانچویں شہادت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو ایک سازش کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا، نواز شریف کے کیس میں تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ خود اتھارٹی بنی اور نواز شریف کیخلاف ریفرنس دائر کیے گئے۔لیگی رہنما نے کہا کہ جب پنڈورا پیپرز آئے تو اس وقت جے آئی ٹی کہاں تھی؟ پاکستان کی تاریخ میں کونسا ایسا کیس ہے جس میں سپریم کورٹ، نیب کو ریفرنس بھیجتا ہے اور اس پر ایک مانیٹرنگ جج بٹھایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل (ن) کے سینیٹرز سے آپ نے شیر کا نشان چھین لیا، کیا ہم اس تاریخ کو جھٹلا سکتے ہیں، آپ نے مسلم لیگ (ن) کیلئے انصاف کا ایک الگ معیار قائم کیا ہے جبکہ دوسروں کیلئے معیار دوسرا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان پر کیس کیا گیا تو ان کے کسی ساتھی اور اہل خانہ کو نہیں بلایا گیا، جھوٹی منی ٹریل پر کسی نے کچھ نہیں کیا، بنی گالہ گھر ریگولرائز کرنے کے حوالے سے یو سی نے کہا کہ یہ دستاویزات کمپیوٹرائزڈ ہیں حالانکہ اس وقت ہمارے پاس کمپیوٹر ہی موجود نہیں تھا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب آڈیو سامنے آئی تو عمران خان نے ترجمانوں کا اجلاس طلب کرلیا حالانکہ مہنگائی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا، ہم بطور پاکستانی عدلیہ کو تمام شک و شبہات سے بلا تر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ثاقب نثار صاحب نے عدلیہ کو بدنام کیا ہے، فیصلہ کروانے والے اب بھی پس پردہ ہیں لیکن عدلیہ بدنام ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تمام تر شواہد موجود ہیں لیکن عدلیہ اپنے وقار پر لگے داغ کو خود دھوئے۔ رانا ثنا ء، مریم اورنگزیب، جاوید لطیف اور پرویز رشید بھی ہمراہ موجود تھے۔