ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ اداروں پر حملہ ہے،صداقت عباسی

کراچی (ٹی وی رپورٹ) تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کا دفاع عوامی نمائندوں کی حیثیت سے
کررہے ہیں ،ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ اداروں پر حملہ ہے، مریم نواز سمجھتی ہیں نواز شریف کو عدالتوں نے غلط سزا دی تو بیان حلفی عدالت میں لے جائیں۔ وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر اور دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعجاز اعوان بھی شریک تھے۔محمد زبیر نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کی آڈیو آئی وزراء اس پر بات نہیں کرتے، حکومت ہمت کرے اور ثاقب نثار کی ویڈیو کی تحقیقات کرے، کون سی سیاسی جماعت ہے جس کا میڈیا سیل نہیں ہوتا ہے، کون سی سیاسی جماعت ہے جو فیصلہ نہیں کرتی کہ پارٹی اشتہار کس کو دینے ہیں۔اعجاز اعوان نے کہا کہ ایک سزا یافتہ خاتون کے کہنے پر ایک باکردار آفیسر کیوں کٹہرے میں آئے، مریم نواز عدالت چلی جائیں وہاں وہ حلف نامہ دیدیں گے۔ثاقب نثار کی آڈیو کا فرانزک کروا کے انکوائری کروائی جائے مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ صداقت علی عباسی نے کہا ن لیگ مافیا ہے جس نے ہر اس ادارے کی تذلیل کی جس نے کبھی اس کیخلاف کبھی کوئی قدم اٹھایا ہو، مریم نواز اپنے والد کے چار فلیٹوں کی منی ٹریل سامنے لائیں، اشتہارات کا 10ارب سے 15ارب روپے کا معاملہ ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ محمد زبیر نے کہا نیب پراسیکیوٹر کے پاس کوئی کیس ہی نہیں ہے، کس چیز کیلئے مریم نواز کو دس سال کی سزا دی گئی، حکومت فرانزک نہیں کرواسکتی تو کس کام کی ہے، ہم اپنی پارٹی کا اشتہار دینے کیلئے کیا ان سے پوچھیں گےہمیں کوئی شک نہیں کہ مریم نواز کیخلاف فیصلہ اوورٹرن ہوجائے گا۔ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل(ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ مریم نواز پہلے اپنے چچا کو کٹہرے میں کھڑا کر کے جسٹس قیوم کو ڈکٹیٹ کرنے کا جواب مانگیں۔ اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ مریم نواز عدالت چلی جائیں وہاں وہ حلف نامہ دیدیں گے، عدالت ازخود نوٹس لے کر بلاتی ہے تو وہ آئیں گے، پارلیمنٹ کے بلانے پر وہاں ساڑھے تین گھنٹے کھڑے ہو کر وضاحت دی وہ کسی کی خواہش بالخصوص مریم نواز کی خواہش پر عدالت نہیں آئیں گے ۔