افسروں کے تبادلے، پنجاب کا بھی اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات پر تحفظات کا اظہار

لاہور،اسلام آ باد (اپنے نامہ نگار سے،نمائندہ جنگ ) سندھ حکومت کے بعد پنجاب حکومت نے بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے روٹیشن پالیسی کے گریڈ 20کے پولیس سروس اور پا کستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے افسروں کو تبدیل کرنے کے احکامات پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہےتاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پنجاب حکومت کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے تبدیل کئے جانے وا لے افسروں کو ریلیو کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ میں تو پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ ذ رائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کا مران علی افضل نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن افضل لطیف کو خط لکھاتھا جس میں کہاگیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے روٹیشن پا لیسی کے تحت جن پولیس سروس اور پاکستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے افسروں کو پنجاب سے تبدیل کیا ہے انہیں افسروں کی قلت کے پیش نظر متبادل کی دستیابی تک پنجاب میں ہی فرائض کی انجام دہی جاری رکھنے کی اجازت دی جا ئے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جواب میں چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھا ہے کہ روٹیشن پالیسی 2020چیف سیکرٹریوں کی مشاورت سے تیار کی گئی تھی۔مقصد یہ ہے کہ تمام حکومتوں میں افسروں کی قلت ان افسروں سے دور کی جا ئے جنہیں کم روٹیٹ کیاگیا ہے۔اس اصول کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پنجاب میں تعینات گریڈ بیس کے پولیس سروس کے چھ اور پا کستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے چار افسروں کو تبدیل کیا گیا۔ افسروں کو پنجاب میں دس سال سے زیادہ ہوگئے ہیں ۔ اس ایشو پر کمپرو مائز کرنے سے روٹیشن پالیسی کو تباہ کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے تبدیل کئے جانے والے افسروں کو ریلیو کیا جائے اور انہیں ہدایت کی جا ئے کہ وہ ان مقامات پر جوائننگ دیں جہاں ان کاتبادلہ کیا گیا ہے۔ مزید تاخیر ان افسروں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ادھروزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ میں دس سال سے زائد عرصہ سے تعینات پولیس سروس اور پا کستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے گر یڈ بیس کے افسروں کو تبدیل کرنے کے احکامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سروس کے سات اور پاکستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے چار افسروں کی خدمات سندھ سے واپس کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھا ہے۔پا کستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے جن چار افسروں کو ریلیو کرنے سے انکار کیاگیا ہے ان میں حسن نقوی ‘ زاہد علی عباسی ‘ ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی اور خالد حیدر شاہ شامل ہیں ۔ پولیس سروس کے جن سات افسروں کی خدمات واپس کرنے سے انکار کیا گیا ہے ان میں عبد اللہ شیخ ‘ محمد نعمان صدیقی ‘ ثاقب اسمعیل ٰ میمن ‘ جاوید اکبر ریاض ‘ نعیم احمد شیخ ‘ لیفٹنٹ (ر) مقصود احمد اور عمر شاہد حامد شامل ہیں۔سندھ حکومت نے پا کستان ایڈ منسٹر یٹو سروس کے چار افسروں کی سندھ میں تعیناتی سے اتفاق کیا ہے ان میں عاطف رحمنٰ ‘ خالد سلیم ‘ نعمان بشیر اور علی حسین ملک شامل ہیں ۔خط میں کہاگیا ہے کہ وفاقی حکومت نے روٹیشن پا لیسی صوبوں کی مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر تیار کی ہے۔ دورسی وجہ یہ کہ سندھ میں افسروں کی قلت ہے ۔ تیسری وجہ یہ کہ نئے افسروں کو یہاں کا تجربہ نہیں ہے اسلئے انہیں چیلنجز کا سامنا ہو گا۔