سندھ اسمبلی اپوزیش کا شور شرابہ ، میگا فون پر نعرے ،ایجنڈے کی کا پیاں پھاڈ دیں

کراچی (نمائندہ جنگ) سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کا شورشرابہ، احتجاج ، میگا فون پر نعرے، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ مکیش کمارکے ریمارکس اور بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کے ارکان مشتعل ہوئے، ڈپٹی اسپیکر نے قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن کے دیگر ارکان کے مائیک بند کرادیئے ،اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے اپنا میگا فون ہاتھ میں تھام لیااورکہا کہ وہ ناظم جوکھیو پر قرار داد لانا چاہتے تھے، وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ نے کہا یہ لوگ آج ایوان میں میگا فون لائے ہیں کل کوئی اسلحہ لاسکتا ہے اسلئے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے،سپیکر اپنے اختیارات استعمال کریں ،ایوان کا ماحول بہت خراب ہورہا ہے، خواجہ اظہار نے کہا آج دونوں طرف سے دعا کے وقفے میں بددعائیں دی گئیں،حکومتی ارکان نے جواب دیا اپوزیشن کا رویہ درست نہیں، ایم ایم اے کے سید عبدالرشید نے کہا لیاری میں مظاہرین پر موٹرسائیکل سواروں نے براہ راست فائرنگ کی ، مسلح لوگ گھوم رہے ہیں ،دعا کریں کہ ظالموں بھتہ خوروں سے نجات ملے،اجلاس ڈپٹی سپیکر ریحانہ لغاری کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو اپوزیشن نےاس پراعتراض کیا اور شور شرابہ کرتے ہوئے سپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے، قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا یہ کونسا طریقہ ہے کہ صاحب لوگوں کا انتظار کیا جائے، ایم کیوایم کے محمد حسین نے کہا دعا کریں کہ اللہ ڈپٹی اسپیکر کو ایجنڈا پورا کرنےکی توفیق دے ، پیپلز پارٹی کی ہیر سوہو نے کہا کہ سندھ حکومت کیخلاف سازشیں کرنیوالے نیست و نابود ہوں ، پی ٹی آئی کے ربستان نے قبضہ مافیا کیخلاف دعا کی استدعا کی، وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن نے ایوان میں غیر پارلیمانی رویہ اپنارکھا ہے۔