اسٹاک مارکیٹ میں مندا برقرار تین روز میں انڈیکس 2126پوا ئنٹ گر گیا

لاہور (سودی) گزشتہ روز مسلسل تیسرے دن بھی سٹاک مارکیٹ میں مندے کا رحجان رہا۔ اڑھائی سو کے قریب کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی سمیت انڈیکس اور مجموعی مالیت بھی غیر معمولی طور پر کم ہو گئی۔ اس طرح گزشتہ تین روز کے دوران انڈیکس میں 2126 پوائنٹ کی ریکارڈ کمی ہوئی۔ گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز تیزی سے ہی ہوا جو چند لمحوں بعد مندے میں تبدیل ہو گیا جو آخر تک جاری تھا۔ اس دوران انڈیکس میں 25 پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا اور 740 پوائنٹ کی کمی بھی۔ گزشتہ روز کے مندے کی بڑی وجہ بیرونی فنڈز اور سرمایہ کاروں کی بھاری سیلنگ تھی جس کی نیٹ مالیت ایک کروڑ 23 لاکھ ڈالر تھی۔ اس بھاری سیل کی وجہ پاکستانی کمپنیوں کا 30 نومبر کو ایمرجنگ مارکیٹ سے نکلنا تھی جبکہ اس کے برعکس مقامی اداروں نے خریداری جاری رکھی۔ ان کا موقف تھا کہ بیرونی فنڈز کی سیلنگ ختم ہونے کے بعد بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے دیگر عناصر میں آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کی سفارشات تسلیم کرنے سے انکار، انٹرسٹ ریٹ میں مزید اضافہ کا امکان، روپےکی قدر میں کمی، KiBOR ریٹ میں 10 فیصد اضافہ شامل تھے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ ہو سکا اور 3 ارب ڈالر کا سعودی ڈیپازٹ نہ آیا تو ادائیگیوں کا توازن بگڑ جائے گا جس سے معاشی حالات نہایت تشویش ناک ہو جائیں گے۔ کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 585 پوائنٹ کم ہو کر 44364 پر آ گیا۔ 76 کمپنیوں میں اضافہ، 245 میں کمی، 22 میں استحکام رہا۔ 31 کروڑ 3 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا۔