وفاقی ٹیکس محتسب، غیر منافع بخش تنظیموں میں خامیوں کی نشاندہی

02 دسمبر ، 2023

اسلام آ باد ( مہتاب حیدر)وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے غیر منافع بخش تنظیموں (این پی اوز) کے شعبے میں واضح خامیوں کو پایا ہے جو ٹیکس چوری، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے اور ود ہولڈنگ اسٹیٹمنٹ کے ساتھ ساتھ منظوری کے نظام کا غلط استعمال جیسے بہت سے نقصانات کا شکار ہیں، این پی او سیکٹر کا مجموعی ٹرن اوور کھربوں روپے ہے کیونکہ ریٹرن فائلرز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکس سال 2021 میں ان کا ٹرن اوور 82 ارب روپے رہا، ایف ٹی او نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بتایا کہ ٹیکس سال 2021 میں پاکستان میں کل 4509 رجسٹرڈ این پی اوز تھے اور ان کا اعلان کردہ ٹرن اوور 82 ارب روپے تھا،صرف 1733 فائلرز تھے لیکن نان فائلرز کی مجموعی تعداد 2776 تھی جبکہ کل 961 این پی اوز نے ود ہولڈنگ اسٹیٹمنٹ جمع کرائے تھے،یہ تفصیلات ریگولیٹری شقوں کی تعمیل میں بڑے خلا کی عکاسی کرتی ہیں اور پاکستان میں این پی اوز کے شعبے کے لئے ٹوٹے پھوٹے ٹیکس نفاذ کو اجاگر کرتی ہیں۔نااہلی کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ 2003 کے بعد سے نہ پی او پی کے سرٹیفکیشن کے عمل کی مناسب نگرانی کی جارہی ہے ، باقاعدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے اور نہ ہی این پی او سیکٹر کو وہ توجہ دی جارہی ہے جس کی وہ صحیح طور پر ضرورت ہے، ایف ٹی او کے مطابق ایف بی آر کے آئی آر آپریشنز اور آئی آر پالیسی کے دوافسران نے اجلاس میں کہا ہے کہ انکم ٹیکس قانون کی روشنی میں پورے این پی او نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 220 بی کے ذیلی قاعدہ 11 کے تحت کمیٹی تشکیل دی جائے جو سرٹیفکیشن ایجنسی کے طور پر کام کرنے والے پی سی پیز کی صلاحیت کا جائزہ لے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لے ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئی آر پالیسی ونگ داخلی اور بیرونی سرٹیفیکیشن کے عمل کا مجموعی جائزہ لے، سرٹیفیکیشن پینل کی تشکیل کو ہموار کرے، سرٹیفیکیشن کے معیار کا جائزہ لے، متعلقہ قواعد کی مکمل تعمیل کو یقینی بنائے، آئی آر پالیسی ونگ این جی اوز / این پی اوز کو پی او پی کی دیگر خدمات کی جانچ پڑتال کرے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ مفادات کا ٹکراؤ سرٹیفکیشن کے عمل اور شفافیت پر اثر انداز نہ ہو، آئی آر آپریشنز تمام فعال این پی اوز کا مکمل ود ہولڈنگ آڈٹ کرے، آئی آر آپریشنز تمام این پی اوز کی جانب سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور ود ہولڈنگ اسٹیٹمنٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، آئی آر آپریشنز مختلف فیلڈ فارمیشنز میں این پی اوز کی جانب سے دائر مقدمات کی پروسیسنگ، منظوری، جائزے کے لئے یکساں ایس او پی جاری کرے اور 90 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ پیش کرے۔