رول بیک نہیں ادھوری ترمیم مکمل کریں گے، ن لیگ

03 دسمبر ، 2023

لاہور(نمائندہ جنگ) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ18ویں ترمیم رول بیک نہیں کرینگے بلکہ اس ادھوری ترمیم کو مکمل کرینگے،مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ18ویں ترمیم ختم کرنے بارے ہم کوئی ارادہ نہیں رکھتے، 18ویں ترمیم ابھی ادھوری ہے، ہم مرکز سے صوبوں کو جانے والے اختیارات کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے نچلی سطح تک لیکر جائینگے،ہمارا پلان 18ویں ترمیم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے، اوئے، توئے کلچر نے جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،بلاول سمجھتے ہیں ن لیگ پر تنقید سے ووٹ لے سکتے ہیں تو پورا زور لگائیں ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 85 فیصد حلقوں کے حوالے سے جلد اعلان کر دیا جائیگا، جہاں کوئی ڈسپیوٹ ہوا وہاں پر اتفاق رائے پیدا کیا جائیگا، دانیال عزیزنے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، انہیں شوکازنوٹس جاری کر دیا، دانیال عزیز شوکاز کا جواب7دن کےاندرجمع کرائیں، دانیال عزیزاس قسم کی بیان بازی سے اجتناب کریں۔ لیگی رہنما نے کہا کہ پیپلزپارٹی مخالف بات کرکے ہی ووٹرز کواٹریکٹ کر سکتی ہے، اوئے، توئے کے کلچر نے پاکستان کی سیاست، جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ہم توقع کرتے ہیں پیپلزپارٹی کی قیادت جمہوری روایات کو پیش نظر رکھے گی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سرگودھا ڈویژن کے امیدواروں کو بلایا گیا تھا، تمام امیدواروں کا پارلیمانی بورڈ میں انٹرویو کیا گیا پاکستان کو آج تباہ کن مہنگائی کا سامنا ہے۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کرکے گیا، مہنگائی کا ذمہ دار سابق چیئرمین پی ٹی آئی ہے ، رانا ثنا اللہ سے سوال کیا گیا کچھ حلقے کہہ رہے ہیں نوازشریف بقیہ علاج کے لئے شاید لندن جائیں گے، انہوں نے مسکرا کر جواب دیا یہ کونسے حلقے ہیں آپ ہی کہہ رہے ہیں، احسن اقبال نے کہا کہ سرگودھا ڈویژن کے تمام اضلاع کے 100 سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کرلیے ہیں،سوموار کو راولپنڈی اور منگل کو ہزارہ جبکہ بدھ کو بلوچستان کے امیدواروں کے انٹرویوز ہوں گے ،انھوں نے کہا میں نہیں جانتا کہ دانیال عزیز بلاول بھٹو کی زبان کیوں بول رہے ہیں ، ملکی تباہی کی ذمہ داری عمران نیازی کے 4 سالہ دور اور آئی ایم ایم معاہدے پر عائد ہوتی ہے ،ہماری اس دور کی پارلیمان میں کی گئی تقاریر اسکے ثبوت کے طور پر موجود ہیں، اس مہنگائی کو ختم کرنے کیلئے مضبوط مستحکم اور آزمودہ حکومت کی ضرورت ہے ۔