الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کے داخلی انتخابات چیلنج کئے جانے کے بعد توقع کی جانی چاہئے کہ کمیشن کی جانب سے اس باب میں فیصلہ سنائے جانے کے علاوہ واضح رہنمائی سامنے آئیگی کہ مذکورہ انتخابات میں کن کن امور کا خیال رکھا جانا چاہئے اور کیا کیا امور انٹرا پارٹی الیکشن کا لازمی حصّہ ہیں۔ اس باب میں اس امر کو اتفاق کہا جاسکتا ہے کہ منگل کے ہی روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلیت سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا اور منگل ہی کو پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ پارٹی کے انتخابات محض دکھاوا اور فریب تھے، پارٹی ارکان ووٹ دینے سے محروم رہے۔ کہا گیا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کے قواعد و ضوابط ،شیڈول، کاغذات نامزدگی کی تاریخ، وقت اور طریقہ کار سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ استدعا کی گئی کہ انتخابات کالعدم قرار دیئے جائیں اور شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جانے تک انتخابی نشان بلّے کی اجازت نہ دی جائے، نئے انٹرا پارٹی الیکشن کے انعقاد کا حکم دیا جائے اور کمیشن کی جانب سے غیر جانبدار فریق مقرر کیا جائے جو انٹرا پارٹی الیکشن اپنی نگرانی میں کرائے۔ اسلام آباد کے رہائشی اور پی ٹی آئی ممبر راجہ طاہر نواز کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن میں دائر کردہ اسی نوع کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر پارٹی سیکرٹری جنرل کو دوبارہ انتخابات کرانے کی ہدایت کی جائے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کے حوالے سے ماضی میں بھی بدمزگی کی صورتحال سامنے آتی رہی ہے اور ایک موقع پر بعض افراد پارٹی کو خیرباد بھی کہہ گئے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پارٹی کے تنظیمی امور پر مناسب توجہ نہ دی جاسکی۔ حالیہ انٹرا پارٹی انتخاب الیکشن کمیشن کی جانب سےپی ٹی آئی کو محدود وقت میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی مہلت ملنے کے بعد کرائے گئے۔ پی ٹی آئی کو 8فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات میں بلّے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کی یہ شرط تھی کہ پارٹی کے داخلی انتخابات کرائے جائیں۔ اس دوران پی ٹی آئی کے بانی عمران خان قانونی مسائل کے باعث بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین نامزد کرچکے تھے۔ اب الیکشن کمیشن میں جو درخواست دائر کی گئی اس سے جہاں سیاسی پارٹی کے داخلی الیکشن کی اہمیت زیادہ واضح ہوئی وہاں یہ ضرورت بھی سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن اس باب میں رہنمائی فراہم کرے۔ الیکشن جمہوری نظام کا خاصہ اور بنیادی ضرورت ہے۔ جمہوری الیکشن صرف حکومت بننے تک محدود نہیں بلکہ سیاسی پارٹی میں بھی ہر سطح پر معیّن وقت کے بعد ضروری ہیں۔ مرکز ہو، صوبے ہوں یا گراس روٹ کے ادارے، الیکشن سب کی ناگزیر ضرورت ہے۔ وطن عزیز میں متعدد وجوہ سے بعض پارٹی الیکشن کاغذی کارروائیوں تک محدود رہتے ہیں۔ تحریک استقلال اور جماعت اسلامی کے انتخابات نمایاں ہوئے ۔ تحریک استقلال اپنے انتخابات کی وجہ سے کمزور ہوئی، دھڑوں میں بٹی اور تقسیم ہوگئی۔ جماعت اسلامی کے الیکشن پارٹی قیادت اور ارکان کے درمیان رابطے کا موثر ذریعہ اور نظریاتی پختگی کا باعث بنتے ہیں۔ مغربی ممالک میں روایتی طور پر حکومتیں انٹرا پارٹی الیکشن میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں پارٹیاں تنظیمی ڈھانچے کے اعتبار سے مغرب کی طرح مستحکم نہیں ہوتیں ۔انہیں داخلی انتخابات کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس باب میں الیکشن کمیشن موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ نچلے حلقوں سے لیکر اوپر کی سطح تک رجسٹرڈ ووٹروں کے درمیان پولنگ کراسکتا یا اس کام میں معاونت فراہم کرسکتا ہے۔ یہ بات بہرحال اہمیت رکھتی ہے کہ پارٹیوں کے داخلی انتخابات کرائے جائیں اور یہ شفاف ہوں تاکہ ہر سطح پر حقیقی قیادت سامنے آئے۔
ہم امن کی کوششوں کے باعثگو داد پہ داد پا رہے ہیںمودی کی طرح یہاں بھی کچھ لوگ اس بات پہ تلملا رہے ہیں
تتلیاں……اقبال خورشیدوہ صبح تتلیوں کی تلاش میں نکلتے ہیں۔منہ اندھیرے، اپنی نیند سے مقابلہ کرتے ہوئے، خیر کی...
آج ہم بات کریں گے عالمی معاشی جنگ کے ایک نئے محاذ کی ۔ یادش بخیر!29مارچ 2026ء کو پاکستان کے ساحل پر ایک ایسی دستک...
پرائم منسٹر شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری اور چائنا کے تعاون سے ایران امریکا...
28فروری کو ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیلی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ہی نہیں بلکہ اسکے ارد گرد کے خطوں کو بھی...
ارسطو نے سیاست کی حکمرانی پر خاصا زور دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ قانون کی برتری سے ریاست میں انصاف کی فضا پیدا...
بے شک عالمی لیڈراور پریس امریکہ ایران جنگ کو رکوانے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ...
آج کا دن برطانیہ کے معروف شاعر، ادیب اور دانشور صابر رضا کیساتھ گزرا۔ یہ کوئی معمولی ملاقات نہ تھی بلکہ ایک...