لاہور (ایجنسیاں)چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نقد ریکوریز نہیں کرتے،جتنی چاہیں گالیاں دیں کیس میرٹ پر ہی ختم ہونگے، کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ، آڈٹ میں بھی کوئی خرد برد سامنے نہیں آئی،کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا چاہتے ہیں، ان کی صبح نیب سے شروع اور شام نیب پر ختم ہوتی ہے ، نیب کرنسی کی صورت میں رقم ریکور نہیں کرتا اور ادارے کے آڈٹ میں بھی کوئی خرد برد سامنے نہیں آئی،لاہور میں ریکوریز کی ادائیگی سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن نے ملک کو برباد کردیا، پاکستان میں لوٹی ہوئی دولت واپسلانا بہت مشکل کام ہے، عوام کو چاہیے کہ سرمایہ کاری سے پہلے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تحقیق کرلیاکریں۔کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا چاہتے ہیں، پاپڑ والے، چھابڑی والے اتنے امیر کیسے ہو گئے؟ چند ہفتے قبل چائے کی پیالی پرطوفان اٹھا دیا گیا کہ ریکوری کا پیسا کہاں گیا؟انہوں نے مزید کہا کہ تین بار مکمل آڈٹ میں معمولی لیپس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں آیا، ایک صاحب نے نیب کے کچھ افسران پر رشوت لینے کا الزام لگایا، ثبوت دیں، کارروائی کریں گے۔جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب میں ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے، گوادر میں ریکور کرائی گئی زمینوں کی مالیت کھربوں میں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی مقدس گائے نہیں، جو کرے گا وہ بھر ےگا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کے کیسز پر فیصلہ دینا احتساب عدالتوں کا کام ہے، کیونکہ ہمارے پاس عدالتیں کم ہے اس لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے نئے قوانین بھی تشکیل دیے ہیں ، اب روزانہ کی بنیاد پر کیسز حل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہ جو ایک ہزار 270 ریفرنسز ہے ان میں 13 ارب زائد کی رقم کی خرد برد کی گئی ہے۔ نیب نے جو ریفرینسز دائر کیے ہیں تمام تر قانونی ہیں اور یہ ریاست مدینہ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ایک قدم ہے جس کے لیے ہم سب کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ڈی جی نیب کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ نیب حکومت نواز ہے ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کتنی درخواستیں دائر کی اور کس کے خلاف دائر کی، آپ ریفرنس دائر کریں میں 48 گھنٹے میں کارروائی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نیب کی جرات کیسے ہوئی کہ ہمیں بلائے، نیب کو یہ جرات قانون نے دی ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب کے کیسز غلط ہیں تو الزام تراشی کرنے کے بجائے عدالت میں جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کچھ لوگ نیب کے خلاف عدالتوں میں گئے اور ثبوت کی بنیاد پر یہ سامنے آیا کہ نیب کے کیسز غلط نہیں ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ الزام لگانا آسان ہے لیکن اس پر ثبوت پیش کرنا بہت مشکل ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کسی بھی الزام پر افسران کو گھر بھیج دیں، اس کے کچھ قواعد ہیں اور کے تحت ہی کام کیا جاتا ہے ، ہم نیب میں دیانت، ذہانت اور امانت کے اصول متعارف کروائیں اور اس ہی وجہ سے ہم ریکوائریاں کر کے آپ کو لوٹا رہے ہیں۔
پشاورخیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقے کالام میں گلیشیئر پھٹنے کے واقعے میں ایک شخص لاپتہ جبکہ 6افراد زخمی ہو گئے...
کراچی لیاری میراں ناکہ میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے رینجرز کا جوان جاں بحق ہوگیا ،تفصیلات کے مطابق چاکیواڑہ...
اسلام آباد حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ نوٹیفکیشن کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے،...
کراچی قائد آباد میں 23 جون کو اغواء کے بعد بے دردی سے سے کئے جانے والےمعصوم کلثوم کے قتل کا معمہ حل کرلیا گیا...
کوئٹہ سانحہ زِیارت میں شہید ہونے والے7پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ہفتہ کو کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں ادا کر دی...
کراچی مشیر وزیر خزانہ خرم شہزادنے کہا ہے کہ ڈی ریگولیشن ہونی چاہئے یہی بنیادی اصول ہے،سپلائر اور صارف دونوں...
اسلام آباد سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔ میڈیا کے مطابق جسٹس محمد...
اسلام آباد جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں عمر ایوب خان کو اشتہاری قرار دے دیا...