ٹیکس نیٹ میں اضافہ

اداریہ
31 دسمبر ، 2023

چند ماہ قبل منظرعام پر آنے والی ایک عالمی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ پاکستان کے صرف پانچ صنعتی شعبے ایسے ہیں جو سالانہ 956 ارب روپے کا ٹیکس بچاتے ہیں۔ ان میں رئیل اسٹیٹ، چائے، سگریٹ، ٹائر اور فارماسوٹیکل سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد شامل ہیں۔ ایف بی آر کے کچھ ریٹائرڈ ملازمین ان حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ معیشت کا 40 فیصد حصہ ان ریٹیلروں اور آڑھتیوں کے پاس ہے جو نہ ہونے کے برابر ٹیکس دیتے ہیں ۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پڑوسی ملکوں سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں وسیع پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ نے ایک متوازی اور غیرقانونی معیشت کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ ایک عذر صنعت و تجارت ، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد خسارے میں جانے کا پیش کرتے ہیں ۔اس ساری صورتحال میں مہنگائی کی چکی میں پسا ہوا تنخواہ و اجرت دار طبقہ ہی پیچھے رہ جاتا ہے جو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہے اور ہرطرح کے محصولات ادا کرتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک کا قابل ادائیگی 66فیصد طبقہ ایسا ہے جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ ان کی عدم شمولیت کے باعث بجٹ اہداف انتہائی پست سطح پر رکھے جاتے ہیں اور جب یہ بھی پورے نہ ہوں تو بجٹ خسارے کا شکار ہوتا ہے۔اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے دوران 15 لاکھ نئے افراد ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ان میں ڈاکٹر، انجینئر، وکلا اور دیگر کاروباری افراد شامل ہیں جنھوں نے کسی نہ کسی طرح خود کو ٹیکسوں سے بچا رکھا ہے۔ ان میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو نوٹس جاری ہوچکے ہیں ، اس کے علاوہ قابل ٹیکس آمدن رکھنے والے دیگر نان فائلروں کا بھی تھرڈ پارٹی کے ذریعے ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے ۔یہ ایک خوش آئند قدم دکھائی دیتا ہے جسے بہرصورت پورا کیا جانا ضروری ہے تاہم معیشت میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کسی بھی رورعایت کے مستحق نہیں۔