ٹیکسٹائل برآمدات میں 11فیصد کمی،ماہانہ 650ملین ڈالر ہ خسارہ

31 دسمبر ، 2023

فیصل آباد (شہباز احمد) ٹیکسٹائل برآمدات میں 2023کے دوران مجموعی طور پر 11فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے انڈسٹری کو ماہانہ دو ارب ڈالر کی برآمدی صلاحیت کے مقابلے میں 650ملین ڈالر ماہانہ خسارے کا سامنا رہا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی برآمدی صنعتوں کے پاور ٹیرف میں غیر پیداواری شعبوں کو دی جانے والی 10.85 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ کی کراس سبسڈی کی شمولیت کے باعث بجلی اور گیس کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں دوگنا سے زائد ہیں اور پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے برآمدکنندگان کو بیرون ملک سے برآمدی آرڈرز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جنوری سے نومبر 2022 تک ٹیکسٹائل برآمدات کا مجموعی حجم 16.41 ارب ڈالر تھا جو کہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران کم ہو کر 14.64 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ سال 2023ء کے دوران گزشتہ سال کی نسبت جنوری میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 15 فیصد، فروری میں 30 فیصد، مارچ میں 23 فیصد، اپریل میں 29 فیصد، مئی میں 20 فیصد، جون میں 14 فیصد، جولائی میں 11 فیصد، اگست میں سات فیصد اور ستمبر میں 11 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں اکتوبر 2023ء میں ٹیکسٹائل برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت پانچ فیصد اور نومبر 2023ء میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ کپاس کی اچھی پیداوار اور برآمد تھی جو کہ نومبر 2022 میں پانچ ملین ڈالر سے بڑھ کر نومبر 2023 میں 58 ملین ڈالر رہی ہے۔ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کی نمائندہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برآمدی صنعتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے مساوی پاور ٹیرف فراہم کرنے کے لئے 10.85 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ کی کراس سبسڈی ختم کرنے کے علاوہ صنعتی صارفین کے لئے سولر نیٹ میٹرنگ کی حد ایک میگا واٹ سے بڑھا کر پانچ میگاواٹ کرنے اور بجلی کی فراہمی کے لئے ایک سینٹ فی کلوواٹ فی گھنٹہ کے ویلنگ چارجز پر بزنس ٹو بزنس معاہدے کرنے کی اجازت دینے پر زور دیا ہے۔ علاوہ ازیں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز نے تمام زیر التواء ریفنڈز کی فوری ادائیگی کے ساتھ ساتھ ریفنڈز کی ادائیگی 72 گھنٹے میں یقینی بنانے پر زور دیا ہے