کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہےکہ نون لیگ کا ایک بھی امیدوار مسترد نہیں ہوا کیا یہ اتفاق ہے اور ہمارے نوے فیصد کو مسترد کر دیا گیا،سینئر اینکر حامد میر نے کہا کہ کاغذات کے مسترد ہونے پر مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہی متوقع تھا،وہ لوگ بھی ٹارگٹ پر ہیں جن کا مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں ہے۔ ان سب چیزوں سے لوگوں کا الیکشن پراسیس سے اعتماد ختم ہوگا بلکہ جوڈیشری سے بھی اعتماد ختم ہوگا،میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو انتخابات ہوں گے مگر انتخابات سے پہلے نمائندگان کے کاغذات نامزدگیاں مسترد کرنے کے جو فیصلے سامنے آئے ہیں اس سے انتخابات کی شفافیت الیکشن کمیشن کی ساکھ اور نگراں حکومت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے کل ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین پری پول ریگنگ ہے اگر یہی سب کرنا تھا تو پھر تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی نون لیگ کا ایک بھی امیدوار مسترد نہیں ہوا کیا یہ اتفاق ہے اور ہمارے نوے فیصد کو مسترد کر دیا گیا۔جتنے بھی جھوٹے مقدمات نو ، دس، گیارہ مئی کے تھے ان سب کو اٹھا کر نااہل کر دیا ہے ۔ مینگل کے مسترد کر دیئے گئے سندھ میں مرزا خاندان کے سب کے مسترد کر دیئے گئے۔نوازشریف اور ان کے خانوادے کو ایک ایک کر کے بَری کر کے پاک کردیا ہے ان کے کاغذات نامزدگی کیسے منظور ہوسکتے تھے جب ان پر سپریم کورٹ نے انہیں تاحیات نااہل کیا ہے نظر ثانی کی درخواست بھی خارج ہوگئی پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں جو اپیل کی شق رکھی تھی 184-3 کے تحت براہ راست سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔ ان لوگوں کی ضمانتیں ضبط ہوں گی۔جن لوگوں کے کاغذات مسترد کیے گئے ہیں اگر اپیل میں ہمیں پذیرائی نہ بھی ملی تو بھی ہمارے پاس کورنگ امیدوار اور متبادل ہر حلقے میں موجود ہیں۔دو سے تین کروڑ ووٹر جو نیا بنا ہے وہ والہانہ طور پر تحریک انصاف سے محبت کرتا ہے اور ان لیٹروں سے نفرت کرتا ہے۔ الیکشن میں ہم کلین سوئپ کرنے جارہے ہیں۔ لیول پلئینگ فیلڈ دینے کو تیار نہیں ہیں انتخابی نشان دینے کو تیار نہیں ہیں اور اگر ہمیں ملا ہے تو عدالتوں پر بھی چڑھ دوڑے ہیں۔انتخابی نشان اس لیے ہوتا ہے کہ یہاں خواندگی کی شرح بہت کم ہے ۔ انتخابی نشان اگر کسی کا لے لیا جاتا ہے تو یہ ووٹرز کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔آج بلے کو کر رہے ہیں کل شیر کو پرسوں تیر کو بھی کرسکتے ہیں پہلے بھی مشرف کا یہ کھیل تماشہ دیکھ چکے ہیں۔ پاکستان کا دوست تو یہی چاہے گا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام آئے سیاسی عدم استحکام ملک دشمنی کے مترادف ہے۔اگرسرکاری ٹی وی نے پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کی پریس کانفرنس دکھا دی ہے تو اس میں کوئی احسان نہیں کیا ہے ۔ اچھی بات ہے ایک عرصہ میرے اوپر بندش لگی رہی اعتزاز احسن کے پروگرام پر بندش رہی آپ عمران خان کا نام نہیں لے سکتے یہ کیسا کنٹرولڈ قسم کا میڈیا چلایاجارہا ہے۔سینئر اینکر حامد میر نے کہا کہ کاغذات کے مسترد ہونے پر مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہی متوقع تھا ۔ پہلے فیز میں کوشش کی گئی امیدوار ریٹرننگ افسر تک ہی نہ پہنچیں ۔ تحریک انصاف کو چاہیے تھا ہوم ورک کر کے رکھتی کہیں ہوم ورک تھا کہیں نہیں ہے بہرحال اب آنے والی تھرڈ فیز میں مسترد کاغذات والے الیکشن ٹریبونل میں جائیں گے وہاں پانچ چھ دن میں فیصلہ ہوگا اگر وہاں سے ریلیف مل جاتا ہے پھر کوشش کی جائے گی اور انہیں دوبارہ مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاید اس الیکشن میں جو لوگ جیت جائیں گے وہ جیت کر بھی ہار جائیں گے اور جو ہار جائیں گے وہ ہار کر بھی جیت جائیں گے۔صرف تحریک انصاف کے کاغذات مسترد نہیں ہوئے ہیں اختر مینگل کے بھی مسترد ہوئے ہیں اس میں مین ٹارگٹ تو تحریک انصاف ہی ہے لیکن وہ لوگ بھی ٹارگٹ پر ہیں جن کا مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں ہے۔ ان سب چیزوں سے لوگوں کا الیکشن پراسیس سے اعتماد ختم ہوگا بلکہ جوڈیشری سے بھی اعتماد ختم ہوگا بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ 2018 اور 2024 کے الیکشن میں یہ فرق ہے کہ اٹھارہ کی جوڈیشری اتنا ریلیف نہیں دے رہی تھی لیکن تئیس چوبیس کی جو جوڈیشری ہے وہ بہت مختلف ہے اور غیر جانبدار ہے ۔ اگر یہ الیکشن پاکستان کا متنازع الیکشن بن جاتا ہے تو ا سکی ذمہ داری سپریم کورٹ آف پاکستان پر بھی آئے گی اور پہلے ہی پاکستان کی جوڈیشری دنیا بھر میں کافی نیچے کے نمبروں پر موجود ہے۔ بطور ادارہ عدلیہ مقتدرہ کے سامنے نہیں ہیں اس میں کچھ انفرادی طور پر ضرور ہیں لیکن بحیثیت مجموعی تو یہی لگتا ہے کہ عدلیہ کا کردار وہی ہے جو 2018 میں تھا لیکن کچھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کوشش کر رہے ہیں کہ وہ قانون کے مطابق چلیں۔مجموعی طور پر یہی لگ رہا ہے کہ جوڈیشری مقتدرہ کے ساتھ ہے۔ اسٹبلشمنٹ جس حکومت کو نکالتی ہے اس کو دوبارہ نہیں آنے دیا جاتا میں نہیں سمجھتا کہ تحریک انصاف آجائے گی ۔ 2018 میں جو مینجمنٹ کی گئی تھی اب اس کا بھی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان کو مسلط کرنے کی جو بھونڈی کوشش کی گئی اس سے زیادہ بھونڈی کوشش مسلم لیگ نون کو مسلط کرنے کی جارہی ہے جنرل باجوہ جنرل فیض کے ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا پاکستان کو فائدہ نہیں ہوگا۔ آٹھ فروری کو ملک میں کوئی سیاسی استحکام نہیں آئے گا جو بھی وزیراعظم ہوگا وہ زیادہ دیر چل نہیں پائے گا۔میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری کو انتخابات ہوں گے مگر انتخابات سے پہلے نمائندگان کے کاغذات نامزدگیاں مسترد کرنے کے جو فیصلے سامنے آئے ہیں اس سے انتخابات کی شفافیت الیکشن کمیشن کی ساکھ اور نگراں حکومت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ تحریک انصاف کے بانی بھی الیکشن کی دوڑ سے مائنس ہوگئے بانی تحریک انصاف اسی صورت مین الیکشن لڑ سکتے ہیں اگر الیکشن ٹریبونل سے انہیں کوئی غیر معمولی ریلیف ملے گا اس کے علاوہ تحریک انصاف کے کئی بڑے رہنماؤں کے کاغذات نامزگی بھی مسترد کر دئیے گئے ہیں۔
نئی دہلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انہیں عید اور...
کراچی، اسلام آباد پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمن کی بیٹی ماروی ملک انتقال کر گئیں۔مرحومہ کی...
راولپنڈیعید الفطر پر مری میں سیاحوں کی آمد؛تمام مرکزی شاہراہیں رواں دواں،بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کا...
نئی دہلیبھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں عیدالفطر کے موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت...
فیصل آباد وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ موجودہ چیلنجز سے...
اسلام آباد وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ عیدالفطر کے موقع پر بھی ملک کی تمام...
کراچی عراق میں ایندھن بھرنے کے طیارے حادثے میں ہلاک 3 امریکی نیشنل گارڈز کو اوہائیو کے پائلٹ نے 61 سال پرانے...
دوحہ قطر نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ اس کی علاقائی سمندری حدود میں گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں سوار...