لاہور،،اسلام آباد ، راولپنڈی کراچی (خصوصی نمائندہ،سپیشل رپورٹر،نمائندگان،ایجنسیاں، جنگ نیوز) پٹرولیم ڈویژن اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ، پٹرولیم ڈیلرز کے منافع میں 25فیصد اضافہ کردیا گیا جس کے بعد پٹرول پمپس کی ہڑتال رات گئے ختم کردی گئی ، پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیےکے مطابق پیٹرول پر ڈیلر منافع 99پیسے اضافے سے4روپے 90پیسے فی لیٹرہوجائےگا اور ہائی سپیڈ ڈیزل پرڈیلر منافع 83 پیسےاضافے سے 4 روپے 13 پیسےفی لیٹر ہوجائےگا۔پٹرولیم ڈویژن اور ڈیلرز ایسوسی ایشن میں اتفاق ہوا ہے کہ اضافی لاگت کو عام صارفین کو منتقل کرنا قابل عمل نہیں ۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے تجویز پیش کی کہ جون 2022میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ میں منافع کو فیصد کی شرائط میں طے کیاجاسکتا ہے ۔ تفصیلا ت کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ پٹرولیم ڈویژن کے متعدد مشاورتی اجلاسوں کے بعد ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی ہے ، پٹرول پر 99پیسے ، ڈیزل پر 83پیسے اضافے کی پٹرولیم ڈویژن کی تجویز کو تمام فریقین نے سراہا ہے ۔ وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان ستارہ امتیاز کی سربراہی میں ہونے والے مشاورتی اجلاسوں کے بعد ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کردی ، تمام فریقین نے پٹرولیم ڈویژن کی پٹرول کے موجودہ منافع میں 99پیسے یعنی 3روپے 91پیسے فی لٹر اور ڈیزل کے موجودہ مارجن میں 83پیسے یعنی 3روپے 30پیسے فی لٹر کے اضافے کی تجویز کو سراہا ہے ۔ ڈیلرز کے منافع میں 25فیصد اضافہ کی تجویز ماضی میں منافع پر نظر ثانی کے حوالے سے ہونے والی تاخیر کا احاطہ کرے گی اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں ڈیلرز کی مدد کرے گی ۔ پٹرولیم ڈویژن نے ڈیلرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ موجودہ منافع میں 25فیصد اضافہ کی مذکورہ تجویز کے دفاع کے لئے اپنی تمام تر کوششیں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے گی ، تاکہ پٹرولیم ڈیلرز کو یہ ریلیف قابل قدر شکل میں مل سکے ،ان کے منافع میں اضافہ ایک حقیقت بن سکے ۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین سمجھتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی اضافی لاگت کو عام صارفین کو منتقل کرنا قابل عمل نہیں ہے تاہم پٹرولیم ڈویژن نے ڈیلرز ایسوسی ایشن کو یقین دلایا کہ جون 2022کے دوران منافع کو اس وقت مروجہ مہنگائی کے حساب سے ایڈجسٹ کیا جائے گا ۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے تجویز پیش کی کہ جون 2022میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ میں منافع کو فیصد کی شرائط میں طے کیاجاسکتا ہے اور پٹرولیم ڈویژن ڈیلرز کے مارجن کی 4اعشاریہ 40فیصد تک نظر ثانی کیلئے مجاز فورم سے منظوری حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا ۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے پٹرولیم ڈویژن نے اسے مجاز فورم سے منظور کرانے کی پوری کوشش کی یقین دہانی کرائی ۔ اعلامیہ کے مطابق منافع میں فی الحال 25فیصد اضافہ کرنے اور 6ماہ کے بعد تبدیلی کا یہ انتظام عام لوگوں پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ڈیلرز کے کاروبار کی حفاظت اورتحفظ کو یقینی بنائے گا ۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے ملک کی بہتری کیلئے مل جل کر کام پر اتفاق کیا ۔قبل ازیں جمعرات کے روز ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجاً ملک بھر میں اکا دکا مقامات کے سوا تمام پٹرول پمپس بند رکھے گئے ،جس کے باعث شہری سخت اذیت کا شکار اور پریشان رہے ، بعض کھلے پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ اکثر مقامات پر مہنگا فروخت کرنے کی بھی شکایتیں ملیں۔پمپس بند ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی، سرکاری اسٹیٹ آئل کمپنی ( پی ایس او ) ،شیل آئل ، گو پٹرولیم کمپنیوں کی یقین دہانیوں کے باوجود نہ صرف ان کے بلکہ دیگر ایم سیز کے پٹرول پمپس بھی بند رہے ۔ اوگرا کے دعووں کے باوجود اوگرا کی چھاپہ مار ٹیمیں کسی بھی پٹرول پمپ پر نظر نہ آئیں۔ متعدد شہروں میں عوام کو انتہائی مہنگے داموں بلیک میں پٹرول بھی فروخت کیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کے بلند بانگ دعوے صرف بیانات اور کاغذوںکی حدتک محدود نظر آئے۔ راولپنڈی میں مری روڈ پر واقع اٹک پٹرولیم ، ٹوٹل پارکو ، شیل ، پی ایس او کے پٹرول پمپس بند رہے ،اسلام آباد میں بھی گو پٹرولیم سمیت دیگر او ایم سیز کے پٹرول پمپس بند رہے ۔ راولپنڈی اسلام ابادسمیت خیبر پختوخوہ گلگت بلتستان کشمیر چترال میں %80 پٹرول پمپس بندرہے ایمبولینس کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،راولپنڈی ضلعی انتظامیہ کے ایکشن کے بعد پٹرول پمپس کی بڑی تعداد کو کھلوایا گیا۔ادھرترجمان اوگرا نے کہاہےکہ فیول کی فراہمی کیلئے اوگرا آئل کمپنینز ایڈوائزی کونسل کیساتھ رابطہ میں رہی ہے اور اوگرا نے آئل کی بلاتعطل فراہمی کیلئے آئل ڈپووں کے معائنے بھی کیے ہیں اور آئل لے جانے والی ٹرانسپورٹیشن کی مانیٹرنگ بھی کی ہے ۔ادھر اپوزیشن رہنماؤں نے پٹرول بحران پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ قطاروں میں کھڑے عوام آج نوازشریف اور پرانے پاکستان کو حسرت سے یاد کررہے ہیں،مہنگائی بے تحاشہ ، پٹرول غائب ہے اب کون چور ہے نیازی صاحب ؟ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ خلق خدا رل رہی ہے مگر مجال ہے ظالم حکومت کو کوئی فرق پڑے؟ جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ غریبوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ۔پیپلزپارٹی کی شازیہ مری نے کہاکہ لاڈلے نے قوم کو رلایا بھی رل بھی دیا ہے ، تبدلی تباہی کی وبا بن چکی ہے اس وبا سے نجات ضروری ہے۔
اسلام آباد وفاقی حکومت نے روایتی سرنجز پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ڈریپ نے پابندی کیلئے...
اسلام آباد سپریم کورٹ کی سینیئر جج جسٹس مسرت ہلالی سات اگست کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گی۔ جسٹس مسرت...
اسلام آباد آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ نے وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی...
اسلام آباد 10 کروڑ روپے سے زائد بینک لین دین کی معلومات ایف بی آر کو فراہم کرنا لازمی قرار ۔بینک اکاؤنٹس کے...
اسلام آباد ریفائنری پالیسی میں 6 نئی شقیں شامل کرنیکی تجویز، 6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی راہ ہموار، پیٹرولیم...
اسلام آباد وزیراعظم محمد شہباز شریف سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر تعزیت کے اظہار...
اسلام آبادنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون...
اسلام آباد پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کا مرکزی اجلاس آج منعقد ہو گا،...