وزیراعظم نے بزدار کی بھی نہیں مانی، پنجاب حکومت نے ٹرانسفر کئے گئے 11افسروں کو ریلیو کر دیا

26 نومبر ، 2021

لاہور،اسلام آباد (نیوز رپورٹر، خصوصی نمائندہ) اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور پنجاب حکومت کے درمیان روٹیشن پالیسی پر تنازع ختم ہوگیا۔ پنجاب حکومت نے روٹیشن پالیسی کے تحت وفاقی حکومت کی طرف سے تبدیل کیےجانے والے گیارہ افسروں کو پنجاب سے فوری طور پر ریلیو کر دیا ہے۔ ان افسروں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے اپنی نئی پوسٹنگ کی جگہ پر جوائننگ نہ دینے پر نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ان افسروں میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ بیس کے تقرری کے منتظرندیم احمد ابڑو کو سندھ حکومت، کمشنر سرگودہا فرح مسعود کو جوائنٹ سیکریٹری کلائمیٹ چینج ڈویژن ، کمشنر ڈیرہ غازی خان سارہ اسلم کو بلوچستان حکومت، سیکریٹری خزانہ پنجاب افتخار علی ساہو کو کے پی حکومت اور سیکریٹری ایم پی ڈی ڈی علی طاہر کو بلوچستان حکومت کو رپورٹ کرنے کے لیے پنجاب سے ریلیو کیا گیا ہے۔پولیس سروس کے گریڈ 20 کے ڈی آئی جی عہدہ کے 6 افسران ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ کو سندھ حکومت،آر پی او ڈی آئی جی ملتان سید خرم علی شاہ کو سندھ حکومت ،ڈی آئی جی آر پی او ساہیوال احمد ارسلان ملک کو خیبرپختونخوا حکومت، ڈی آئی جی آر پی او شیخوپورہ انعام وحید خان کو سندھ حکومت ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز پنجاب زبیر دریشک کو سندھ حکومت اور ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب سہیل اختر سکھیرا کو سندھ حکومت رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تمام افسران کو پنجاب سے ریلیو کردیا دیا گیا ہے ۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو افسروں کو ریلیو کرنے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ پنجاب کے سول اور پولیس افسران کو فوری تبدیل نہ کیا جائے، تبدیل کیے جانیوالے افسران کو اہم ٹاسک دے رکھے ہیں، کچھ ماہ تک ان کی جگہ نئے آفیسر تلاش کرلئے جائیں گے، پھر ان کے ٹرانسفر پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ کی دراخوست پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ حکومت کی پالیسی سب کیلئے یکساں ہے اور اب سب کو میرٹ، پالیسی اور قانون کے مطابق چلنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق تبادلوں پر وزیراعظم عمران خان نے اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کو قانون اور پالیسی پر عملدرآمد کا حکم د یتے ہوئے کہا کہ کسی بھی افسر کو پالیسی سے ہٹ کر سپورٹ نہیں کیا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے پہلے ہی اعتراض کیا ہے ایسے میں پنجاب حکومت کی جانب سے اعتراض سے اچھا تاثر نہیں جارہا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔