پولیس جرائم میں ملوث؟

اداریہ
06 فروری ، 2024

یوں تو ملک بھر میں پولیس کی جانب سے مجرموں کی سرپرستی کے واقعات عام ہیں لیکن صوبہ سندھ اس معاملے میں خصوصی مقام رکھتا ہے۔ پولیس اہلکاروں اور افسروں کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی خبریں یہاں آئے دن ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کراچی اور اندرون سندھ گٹکا ماوا مافیا اور دیگرجرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے الزام میں 56 پولیس افسروں اور اہلکاروں کو برطرفی، جبری ریٹائرمنٹ اور دیگر نوعیت کی سزائیں دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کے اعلیٰ افسروں نے کراچی اور اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 56 افسروں اور اہلکاروں کے خلاف اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ان پر مختلف نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور تھانے داروں اور سپاہیوں سمیت کئی افسروں اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی، جبری ریٹائرمنٹ اور دیگر نوعیت کی سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ تاہم پولیس اور مجرموں کے گٹھ جوڑ کی یہ صورت حال ایسی وقتی کارروائیوں سے درست ہونے والی نہیں۔پچھلے ایک سال ہی کا جائزہ لیا جائے تو ایسے متعدد واقعات سامنے آتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اغواء برائے تاوان تک کے کیسوں میں پولیس افسر اور اہلکار ملوث رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جرائم میں ملوث ہونے کا یہ مسئلہ نیا نہیں ‘ فروری 2013ء میں سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی ایم آئی ٹی برانچ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سندھ پولیس میں ایس پی سے چھوٹے رینک تک چار سو پولیس اہلکار قتل سمیت مختلف سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔یہ رپورٹ بی بی سی کی ویب سائٹ پر آج بھی موجودہے۔ یہ پولیس شہریوں کیلئے تحفظ کے بجائے خوف کی علامت ہے۔لہٰذا پولیس کے نظام میں ترقی یافتہ ملکوں کی طرح شفافیت ، اور احتساب پر مبنی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں اور انہیں ملک گیر پیمانے پر عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔