تشویشناک معاشی اشاریے

اداریہ
06 فروری ، 2024
اقتصادی ماہرین رواں مالی سال کے تناظر میں مارچ تا جون کو ملکی معیشت کیلئے نہایت حساس قرار دے رہے ہیں ۔ان کے مطابق مارچ کے دوران شرح مبادلہ کو دھچکوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہےاوران چار ماہ کی اقتصادی کارکردگی رواں مالی سال کے منظرنامے کا تعین کرے گی۔خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس عرصے میں ڈالر کی آمد مارکیٹ سے کم ہوسکتی ہےجبکہ ترسیلات زر اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پہلے ہی متوقع سطح سے کافی کم ہیںاوررواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات زر 6فیصد کم رہیں۔واضح ہو کہ ترسیلات زر میں کمی کا رجحان گزشتہ مالی سال (2022-23) سے چلا آرہا ہے جو گزشتہ سے پیوستہ مالی سال (2021-22) کے مقابلے میں 25فیصد کم تھیں اور اس کے نتیجے میں معیشت کو چار ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔کرنسی ماہرین کو سب سے زیادہ تشویش عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک ارب 20کروڑ ڈالر کی آخری قسط کے اجرا کے حوالےسے لاحق ہے جس کا فیصلہ مارچ میں کیا جائیگا۔نگران وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کو درپیش صورتحال کے تناظر میں ایک اور بیل آئوٹ پیکیج کی ضرورت پڑے گی۔آنے والے حالات پر نظر رکھنا اور خدشات کا پہلے سے حل سوچنا مثبت بات ہے جس کی روشنی میں ممکنہ مشکلات سے نکلنے میں مدد مل سکے۔یہ ساری صورتحال اسلئے بھی تشویشناک ہے کہ 8فروری کے بعد آنے والی منتخب حکومت نے اپنی معاشی ترجیحات کا تعین اور آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کرنا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں نے عوام سے 300یونٹ تک بجلی مفت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے ۔اقتدار میں آنے والی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنا ہونگے جن سے کم از کم اتنا ضرور ہو کہ ڈالر کی رسد اور طلب میں توازن رہ سکے۔اس کیلئے برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ اور درآمدات میںکمی لانا پہلا قدم ہے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998