جمہوریت کا تسلسل اور آرمی چیف

پیر فاروق بہاوالحق
06 فروری ، 2024
عام انتخابات میں محض چند روز باقی ہیں۔ پورے ملک میں انتخابی مہم جاری ہے اب تمام تر افواہیں دم توڑتی جا رہی ہیں اورانتخابات کے التوا کےتمام خدشات دم توڑ چکے ہیں۔جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنے اور عام انتخابات کے بروقت انعقاد میں آرمی چیف نے جو مثبت اور فعال کردار ادا کیا ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان آزاد شہریوں کا ملک ہے یہاں پر ہر شخص کو کسی بھی شخص یا ادارے کے ساتھ اتفاق یا اختلاف کا حق حاصل ہے اور اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے بعض دوست پاک آرمی کے کردار پر مختلف اوقات میں تنقید کے نشتر بھی چلاتے رہے ہیں۔ لیکن اب ناقدین بھی یہ امر تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ موجودہ ان انتخابات کے بروقت انعقاد میں مسلح افواج کے مثبت کردار نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے 262ویں کور کمانڈر کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مختلف دشمن قوتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔مسلح افواج کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون اگرچہ کوئی نئی بات نہیں ہر الیکشن کے موقع پر مسلح افواج الیکشن کمیشن کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی ہیں اور اس کی درخواست پر اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں نبھاتی لیکن موجودہ انتخابات اس لحاظ سے مختلف اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کا التوا گزشتہ ڈیڑھ سال سے مسلسل چلا آ رہا تھا۔پنجاب اور خیبر پختون خوا کے عوام کی آواز سے محروم ہوئے بھی کم و بیش ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا جس کی وجہ سے عوام کے ایک بڑے حصے میں ناراضی کا عنصر موجود تھا۔ملک میں جاری دہشت گردی کی تازہ لہر نے بھی ان افواہوں کی حوصلہ افزائی کی کہ شاید ملک میں انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔شکست کے خوف سے دوچار بعض سیاسی جماعتیں بھی درپردہ یہ خواہش رکھتی تھیں کہ کسی بھی طریقے سے ان انتخابات کو ملتوی کیا جائے اور مقبول لیڈرشپ کو باہر آنے کا موقع نہ ملے۔اس تاثر کو تقویت دینے میں پاکستانی عدلیہ نے بھی موثر کردار ادا کیا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اس کے رہنماؤں اور کارکنوں پر زمین تنگ کر دی گئی اور ایسے ایسے مقدمات میں ان کو سزائیں سنائی گئیں جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔
ان ساری حقیقتوں کے باوجود جنرل عاصم منیر نے جمہوریت کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا اور موجودہ انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی اور مضبوط فوج ہے اور تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا میں اگر مضبوط اور عسکری قوت موجود نہ ہو اور اس کے ہمسائے میں بھارت جیسا شاطر اور چالاک دشمن بھی موجود ہو تو اس ملک کا عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہنا محال کردیا جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست پر کاری ضرب لگانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے اس ملک کی فوج کو کمزور کیا جائے عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے اور نفرتوں کی دیوار اتنی بلند کر دی جائے کہ خانہ جنگی کا راستہ ہموار ہو۔فوج پر ہر طرح کی تنقید کے باوجود دشمن بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ وطن عزیز میں قدرتی آفات سے لے کر دشمن کی گولیوں کا سامنا کرنے تک مسلح افواج ہمیشہ سینہ سپر رہی ہیں۔دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا امن و امان کی بحالی،کرونا وبا ہو یا ''پولیو فری پاکستان ''ان تمام امور میں پاکستان کی مسلح افواج نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج، پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی بھی محافظ ہے۔پاکستان کے موجودہ آرمی چیف تاریخ کا گہرا شعور رکھتے ہیں ان کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ایک وسیع المطالعہ شخصیت ہیں اور مذہب سمیت دیگر تمام معاملات پر ان کی گرفت مضبوط ہے۔ ان کی گفتگو نہ صرف مستند مذہبی حوالوں سے مزین ہوتی ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی پختہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے تحفظ اور اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک واضح ویژن رکھتے ہیں۔انہوں نے متعدد مرتبہ اس امر کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے موجودہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کراچی میں دہشت گردی،بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی ا ٓچکی ہے۔ڈالر کی ا سمگلنگ روک دی گئی ہے،جس کے نتیجے میں اس کے ریٹ میں بھی استحکام پیدا ہوا ہے۔ملکی سلامتی کا انحصار افواج کی بہادری ان کی جذبہ حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔آرمی چیف نے نہ صرف مسلح افواج کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ جمہوریت کے ساتھ اپنا وعدہ بھی پوری کیا ہے۔عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے نمائندگان منتخب کریں
جو پڑھے لکھے اور اہل افراد ہوں جو پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔ایسے گونگے بہرے افراد منتخب نہ کریں جو پارلیمنٹ میں جا کر پارلیمان کی کارروائی میں کوئی اہم کردار ادا نہ کر سکیں۔پوری قوم آرمی چیف سے بجا طور پر یہ توقع رکھتی ہے کہ جس طرح انہوں نے انتخابات کے انعقاد اور جمہوریت کے تسلسل میں اپنا لازوال کردار ادا کیا ہے اسی طرح ''پولنگ ڈے''کو شفاف بنانے اور قوم کے ووٹ کے تحفظ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)