کراچی کی کہانی

امر جلیل
06 فروری ، 2024
ہمارے بزرگوں، بڑوں اور بوڑھوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ایک مرتبہ پاکستان ہمیں مل جائے، اس کے بعد ہم انگریز سے گن گن کر اور چن چن کر بدلہ لیں گے۔ہندوستان کی حکومت انگریز نے ہم سے چھینی تھی۔ ہندوئوں سے نہیں۔ اس وقت ہندوستان پرہماری حکومت تھی جب انگریز بیوپاری بن کر ایسٹ انڈیا کمپنی بناکر ہمارے پاس آئے تھے۔ اس وقت تک ہندوستان پر حکومت کرتے ہوئے ہمیں تین چار سو برس ہوچکے تھے۔ ایسی باتیں پہلے کبھی میں نے پڑھی تھیں اور نہ کسی سے سنی تھیں۔ یہ میرے موکل کی اختراع ہے۔ میں اپنے موکل کی اختراع سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ اس لیے آپ کو سنا رہا ہوں۔ یہ جو فرمائشی تاریخوں میں ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ ہندووں نے ہم پر بڑے ظلم کیے تھے،ستم ڈھائے تھے، قطعی غلط ہے۔ ہم نے پانچ سو برس ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ ہم کبھی بھی ہندو حکومت کے ماتحت نہیں رہے تھے۔ ہمارے پس ماندہ رہ جانے کے اسباب کچھ دوسری نوعیت کے ہیں۔ بالم بن کرہم نے پانچ سو برس ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ ہم خود کو ، فرداً فرداً، ہندوستان کا حکمراں سمجھتے تھے۔ حکمراں کو پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اسکول نہیں جاتے، کالج نہیں جاتے، یونیورسٹی نہیں جاتے۔ ایسے لوگ جب اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تب حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انگریز نے جب اقتدار ہم سے چھین لیا اور ہم بے بس ہوگئے تب ہم سے اور کچھ تو ہو نہ سکا، ہم نے انگریزوں کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کردیا۔ اس کے برعکس ہندوئوں نے موقع محل کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انگریز سے دشمنی اپنی جگہ، ہندو تعلیم وتربیت میں بہت آگے نکل گئے۔ ہم پیچھے رہ گئے۔تاریخ سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہے ۔ دنیا بھرکے ممالک کی تاریخ میں کئی ایک واقعات یا طرز عمل ایک جیسا یا ملتا جلتا ہوتا ہے۔ ہم ایک ہی ماجرے کی بات کریں گے۔ گنتی کے چند ممالک کو چھوڑ کر دنیا بھرکے ممالک ملک گیری کی شدید خواہش کا شکار ہوتے ہیں۔ ممالک موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ موقع ملتے ہی دوسرے ملک پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ ملک پر چابک دستی سے قبضہ کرلیتے ہیں۔ انگریز نے بے شمار چھوٹے بڑے ممالک پر قبضہ کرلیا تھا۔ انگریز کی مملکت ایک دور میں اسقدر وسیع تھی کہ ان کے زیر انتظام ممالک سےسورج کبھی بھی غروب نہیں ہوتاتھا۔ اگر انگریز کے زیر قبضہ ایک ملک میں سورج غروب ہوتاتھا، عین اسی وقت مملکت کے دوسرے کسی ملک میں سورج طلوع ہورہا ہوتا تھا۔ جس طرح ایک فرد مکمل طور پر اچھا یا مکمل طور پر برا نہیں ہوتا، عین اسی طرح قومیں مکمل طور پر اچھی،یا مکمل طور پر بری نہیں ہوتیں۔ انگریز جہاں بھی گئے،انہوں نے اس ملک کی کایا پلٹ دی۔ہندوستان ہم سے چھین لینے کے بعد انگریز نے ہندوستان کو صحیح معنی میں نکھارا، سنوارا، اسکے چھپے ہوئے دیدہ زیب پہلوئوں کو تلاش کیا ان کو نکھارا اور دنیا پر آشکار کرنے کے بعد دنیا کو حیران کردیا۔ جو ترقی یافتہ کام ہمارے بھائی بندوں مملوک، خلجی، تغلق، سید، غزنوی اور مغل پانچ سو برسوں میں کرکے دکھا نہ سکے انگریز نے دوسو برسوں کی حکومت کے دوران کرکے دکھا دیے۔ اتنے بڑے ملک کے دور دراز علاقوں میں دفن آثار قدیمہ کھوج نکالے۔ موہن جودڑو ہم نے نہیں، بلکہ انگریز نے ڈھونڈ کر،زمین سے نکال کر، یہاں کے حیرت انگیز تہذیب وتمدن کی کھوج لگاکر اقوام عالم کو متجسس کردیاتھا۔ سچ بات تویوں ہے کہ انگریز کی دریافت ہم سنبھال نہ سکے۔ آج ہم فخر سے موہن جو دڑو کسی کو دکھا نہیں سکتے۔ یونیسکو کی جانب سے موہن جو دڑو کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ملنے والے لاکھوں کروڑوں ڈالر نہ جانے کہاں غائب ہوجاتے ہیں۔ موہن جو دڑو مکمل طور پر نیستی اور نابودگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
انگریز نے باغ باغیچے، محل محلات اور قلعے نہیں بنوائے۔ انگریز نے ہندوستان کو انتظامی نظام دیا۔ روڈ راستے بنے، مالیاتی نظام کو جدید سمت ملی۔ ملک بھر میں ریلوے کی پٹریاں بچھ گئیں۔ سب سے بڑھ کریہ کہ انگریز نے ہندوستان کو تعلیم وتدریس کے لیے وہ نظام دیا جو ان کے ہاں برطانیہ میں رائج تھا۔ اسی تعلیمی نظام نے ہمیں محمد علی جناح، کرم چند گاندھی، موتی لعل نہرو، جواہر لعل نہرو ، ابوالکلام آزاد ، چندر شیکھراور بھگت سنگھ جیسے لوگ دیئے۔ سبھاش چندربوس بھی انگریز کے تعلیمی نظام سے مستفید ہوئے تھے اور انگریز کےگلے پڑ گئے تھے۔ کہتے ہوئے اچھا نہیں لگتا ، مگر تاریخی حقیقت ہے پانچ سوبرس اقتدار میں رہنے کے باوجود ہم انگریز جیساکچھ بھی ہندوستان کو نہ دے سکے۔ سچ بات تویہ ہے کہ ایسے کام ہمارے بس کی بات نہیں تھی۔ ہم نے سات سوبرس اسپین پر حکومت کی تھی۔ آج وہاں نام ونشان بھی نہیں ہے، سوائے ایک الحمرا کے علاوہ۔
انگریز نے سندھ پر ایک سوسال حکومت کی تھی۔ سندھ میں خاص طور پرکراچی انکو بہت اچھا لگاتھا۔ اٹھارہ سو تینتالیس سے لیکر انیس سو سینتالیس تک انہوں نے دل وجان سے کراچی کو ہوبہو لندن اور بامبے یعنی ممبئی جیسا بنانے کی کوشش کی تھی۔ ایک سوسال کے عرصے میں وہ بہت حد تک اپنی کوششوں میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اگست انیس سو سینتالیس میں انگریز جب ہندوستان کا بٹوارا کرکے چلے گئے، تب اپنے پیچھے کراچی کی صورت میں چھوٹا سا لندن ،چھوٹا سا ممبئی چھوڑ گئے۔ شہر میں ٹرام کی پٹریاں بچھی ہوئی تھیں۔ روڈ راستے ایسے کہ لگاتار مہینوں تک بوندا باندی اور بارش ہونے کے بعد سڑکوں پرپانی ٹھہرتا نہیں تھا۔ ڈبل ڈیکر بسیں، اینگلو اورینٹل طرز کی عمارتیں، راستوں پر درختوں کی قطاریں، فٹ پاتھوں پر خوبصورت بینچوں کی قطاریں سینما ہال، پارک پلے گرائونڈ۔ یعنی کھیل کے میدان۔ بٹوارے کے بعد کراچی ہمارے ہتھے چڑھ گیا ۔ اسکے بعد جو ہمارے جی میں آیا، ہم نے کراچی کیساتھ کیا۔