کشمیر پاکستان کی شہ رگ

محمد خان ابڑو
06 فروری ، 2024

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر ہمیشہ اول ہی رہا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری بھارت کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ۔ ہاں آمریت کے دور میں یہ ضرور ہوا ہے کہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ دوستی کا سفر شروع کرنے کی ہر کوشش بے نتیجہ نظر آئی ، بھارت واحد ملک ہے جس سے ہماری تین جنگیں ہوچکی ہیں ،اس نے کشمیر کے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیںاور غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے کو بھارت میںضم کردیا ہے، یہی ایک وجہ بنی کہ بھارت کے ساتھ تمام سطح پر جاری مذاکرات ختم کرنے پڑے۔ بھارت نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ‘دہشت گردی’ کہا ہے جبکہ مسلح جدوجہد زبردستی قبضے کے خلاف ہے، مشرف کی چار نکاتی تجویز نے ایک اصولی تصفیہ کا وعدہ کیا تھااور یہ مشرف کا چار نکاتی ایجنڈے کئی سال تک بھارت و پاکستان کے مفکرین کے درمیان زیر بحث رہا ۔کرپٹ حکمرانی اور بین الاقوامی برادری کی موقع پرستی نے بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ بین الاقوامی برادری کشمیر میں بھارت کے جرائم کی مذمت نہیںکرتی، کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں ؟ بلاول بھٹو زرداری کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے کچھ عرصہ کشمیر کے مسئلے میں جان ڈالے رکھی، ورنہ عمران خان کے پورے دور میں سوائے آرمی چیف کے پوری حکومت کشمیر پر کھل کر بات کرنے سے کتراتی تھی۔ عمران خان تو یہ کہا کرتے تھے کہ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسئلہ حل ہوجائے گا ہمیں کیا پتہ تھا کہ عمران خان مسئلے کو ایسا حل کریں گے جیسے مودی چاہتا تھا۔ دنیا بھر میں بڑی یا چھوٹی طاقتیں ریاستی مفادات کو قانون اور اخلاقیات پر ترجیح دیتی ہیں۔ مگر ہمیں پاکستان میں قانون اور اخلاقیات یاد آجاتی ہیں جبکہ بھارت کشمیر میں نسل کشی کرتے ہوئے صرف ایک بات سوچتا ہے کہ اس کا مفاد کیا ہے۔ پاکستان تنازعہ کشمیر کا فریق ہے۔ یہ وادی کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے کیونکہ کشمیری پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اگر وہ اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کر پاتے تو کئی دہائیوں قبل کشمیر پاکستان کا حصہ بن چکا ہوتا، لیکن دنیا اس مسئلے کو حل کرنے سے اس لیے دور بھاگتی ہے تاکہ ہندوستان اور پاکستان مسلسل جنگ کے ماحول میں رہیں اور اس ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں عالمی ایجنڈے کا حصہ مودی سرکار اور بی جی پی رہی ہے۔ پاکستان نے کشمیر پر بھارت سے تین جنگیں لڑیں، جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں۔ تاشقند کے معاہدے نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اس کے بعد، کارگل تنازعہ، واجپائی کے لاہور کے تاریخی دورے کے بعد، پاکستان کی فوج 1999 میں اس پوزیشن میں آچکی تھی کہ بھارت کو اگر شکست نہ دے سکے تو جھکنے پر ضرور مجبور کردیتی، لیکن پھر میاں نواز شریف کو خطرہ ہوا کہ جنگ مزید نہ بھڑک جائے اور ان کا اقتدار نہ چلا جائے لہذا انھوں نے کشمیر پرمبینہ سوداکرنے میں ہی عافیت جانی۔پاکستان نے سفارتی تنہائی اور ایک ناکام ریاست کے طور پر ایک بہت بڑی قیمت ادا کی، لیکن کشمیر پر سودانہ کیا، اور ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے لئے پاکستانی قربانی دیتے آئے ہیں۔کشمیر کی جدوجہد میں پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ہمارے کشمیر بھائی سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم نے کس کس موڑ پر کشمیر پر سودے بازی سے انکار کیا اور جواب میں ہمیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی حال ہی میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے بعد بھارت پر 2 ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔بھارت نے یکطرفہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی حیثیت تبدیل کر دی۔کشمیر کے تنازعہ کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے، یہ ثابت کردیا کہ وہ غاصب قوت ہے اور کشمیر پر جاری اس کا قبضہ نہ صرف کشمیریوں بلکہ خود بھارت میں بہت سے اکائیوں کے لیے ناقابل قبول تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان کے بعض حکمرانوں نے بھارت کے خلاف لفظی گولہ بھاری کرنے کے علاوہ کچھ نہ کیا کیوں کہ وہ خود مودی کے یار بنے رہے ،خاص طور پرعمران خان میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ لفظی گولہ باری سے زیادہ کچھ کرتے۔ شکر خدا کہ عمران خان مزید اقتدار میں نہ رہے ورنہ کشمیر تو ہاتھ سے چلا جاتا ،ساتھ خیبر پختونخوامیں بھی طالبان بستے دکھائی دے رہے ہوتے، شکریہ آصف علی زرداری کہ آپ نے دشمنان پاکستان کی چال کو نیست و نابود کردیا۔