دھاندلی کے نام پر کارکنوں کو سڑکوں پر رکھنا دوغلہ پن ہے،امان اللہ کنرانی

12 فروری ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)نگران صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور امان اللہ کنرانی نے کہاہےکہ ایک سیاسی پارٹی اپنی روایتی جعلسازی سے سوشل میڈیا کا کرایہ سیل استعمال کرکے خودساختہ فارم 45/47 کا ڈھنڈورا پیٹ کر الیکشن کو متنازعہ بنا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نےکہاکہ اس روایتی جعل کا مقصد” نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے “اس پارٹی کو سب کچھ سمجھ آتی ہے مگر وہ شاید لوگوں کو بے وقوف سمجھتی ہے یا بنانا چاہتی ہے جس کا مظاہرہ الیکشن سے پہلے کیا اور رونا رویا تھاکہ ہمارے امیدواروں سے فارم چھینے گئے ہیں کویا ان کے کسی امیدوار کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے مگر بعد میں جب جانچ پڑتال ہوئی تو دعوی کیا و الزام لگایاکہ سب سے زیادہ ہمارے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے مگر اب اس کے برعکس ایک ہی سانس میں دو باتیں کررہی ہےکہ الیکشن میں ہمیں اکثریت حاصل ہوگئی ہے دوسری طرف دھاندلی کے نام پر کارکنوں کو سڑکوں پر رکھنا دوغلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔جس کا مطلب و مقصد عیاں ہے جب تک عمران خان حکومت میں نہ آئے پی ٹی آئی کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کے پاس کسی شاہد خاقان و شہباز کی گنجائش نہیں چاہے قریشی ہو یا چوہدری یا حامد خان رہنماؤں کی کوئی وقعت حیثیت نہیں عمران کی خلاء کو پر کرسکیں اور متبادل قیادت مہیا کریں جیسے2022 میں پی ٹی آئی کے پاس پارلیمنٹ میں عددی برتری حاصل ہونے و چار حکومتیں دستیاب ہونے کے باوجود عمران کی تسکین کیلئے بلاوجہ دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑوا ئی گئیں ۔ آج تک ورکر خوار صرف ان پر عمران خان کا بھوت سوار،ایسی صورتحال میں ممکنہ تدابیر کے اندر ملک میں عام انتخابات کے لئے سازگار موسم و ماحول پیدا کرکے مناسب وقت یعنی آئندہ سال سردیوں و رمضان و عیدالفطر کے بعد اپریل کے وسط یا مئی 2025 کے اوائل میں عام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اس میں اب کوئ عُذر نہیں سپریم کورٹ کے حکم کے تعمیل و آئین کے مطابق مکمل شرح صدر کے ساتھ 8 فروری 2024 کو عام انتخابات منعقد ہوچکے ہیں تاھم نتائج پر فریقین کی عدم اطمینان کے باعث اب معروضی حالات کے تحت بادل ناخواستہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا اگر اس سے بھی تسلی نہ ھوئ تو پھر مارچ 1977 میں قومی اتحاد کی تحریک کی طرح ایک اور 5 جولائ 1977 کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے جس کے نتائج بھی بھیانک ہونگے تاھم 2022 میں قومی اسمبلی کو غیر آئینی طریقے سے توڑنے و سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آئین و ملک سے غداری کے جرائم کا انجام بھی کہیں ویسا ہی نہ ہو جس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اجتماعی صبر تحمل و سنجیدگی کا مظاہر کیا جائے ماضی کے تلخ تجربات و تلخ فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے بالغ نظری کے تحت مارشل لاء کے خاتمے کیلئے محمد خان جونیجو کی بصیرت و وردی سے نجات کیلئے ایم ایم اے کی جرات درکار ہے یا پھر آئین کی مکمل بحالی کی خاطر سیاسی اتفاق رائے کی خاطر بعض امور میں سمجھوتہ و باہمی رواداری و برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ملک سے مایوسی کے بادل چھٹیں ملک کے معیشت کا پہیہ چلے۔