بڑھتے قرضوں سے بڑی معیشتیں مالی موت مر جائیں گی، ماہر اقتصادیات

12 فروری ، 2024

کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا میں سرمایہ کاری اور مالیات کے امور کے حوالے سے مشاورتی خدمات دینے والی ایک بڑی کمپنی لافر ٹینگلر انوسٹمنٹس نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتےقرضوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام بڑی معیشتیں اپنی ’’مالی موت‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ کمپنی کے سربراہ آرتھر لافر نے امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پیشگوئی کی ہے کہ آنے والی ایک دہائی ’’مشکل قرضہ جات کی دہائی‘‘ ہوگی، قرض لینے کے بحران نے ترقی یافتہ اور ابھرتے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس بحران کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی قرضہ جات میں 100 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ستمبر میں یہ حد 307.4 ٹریلین ڈالرز تک جا پہنچی ہے، یہ صورتحال گزشتہ 40 برسوں میں عالمی شرح سود میں سب سے زیادہ اضافے کے موقع پر سامنے آئی ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور جاپان جیسے امیر ممالک میں قرضوں کی شرح بے قابو ہو چکی ہے اور عالمی قرضہ جات میں انہی ممالک کا حصہ 80 فیصد سے زائد ہے۔ ابھرتی مارکیٹس میں دیکھیں تو چین، بھارت اور برازیل نے سب سے زیادہ قرضے لیے ہیں۔ آرتھر لافر کا کہنا تھا کہ امکان اس بات کا ہے کہ اپنے قرضوں کے مسائل حل نہ کرنے والے کچھ بڑے ممالک سست نمو کا شکار ہو کر اپنی مالیاتی موت مر جائیں گے جبکہ کچھ ابھرتی معیشتیں بھی دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔