نمونیا کے وار

اداریہ
12 فروری ، 2024

پنجاب میں خطرناک نمونیا کے وار تھم نہ سکے اور یہ مہلک مرض مزید تین بچوں کی زندگیاں نگل گیا۔ گزشتہ دو روز کے دوران نمونیا کے 366 اور لاہور میں ایک ہی روز میں 172نئے کیس سامنے آئے۔ موسمی تغیر کے باعث امسال پنجاب ہی کیا پورا ملک کچھ اس نوع کی سردی کی لپیٹ میں آیا کہ ایسی سردی پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ اس پر اسموگ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لوگ مختلف النوع بیماریوں کی زد میں آنے لگے۔خاص طور پر پنجاب میں نمونیا وبا بن کر پھیلا، جس سے صوبے میں رواں سال 338 اموات ہوئیں 23ہزار 290افراد مرض کا شکار ہوئے جبکہ لاہور میں61 ہلاکتیں اور 4 ہزار 823کیس رپورٹ ہوئے۔اب جبکہ موسم میں مثبت تبدیلی کے آثار دکھائی دینا شروع ہو چکے ہیں اور چمکیلی دھوپ بھی رونما ہونے لگی ہے،نمونیا کے کیسوں کا سلسلہ اگر نہیں تھما تو اس کا بنیادی سبب احتیاط کو بالائے طاق رکھنا ہی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر دن کو دھوپ ہوتی ہے تو سرِ شام موسم پھر سے سرد ہو جاتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بسا اوقات ہوا بھی چلنے لگتی ہے۔الغرض احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے سے بچے، بوڑھے اور جوان سبھی متاثر ہورہے ہیں۔ نمونیادر اصل پھیپھڑوں کی انفیکشن ہے،اس کے زیادہ تر کیس وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ عموماً نزلہ و زکام کی علامات کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔یہ مرض پانچ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔جس کی بنیادی وجوہات غذائیت کی کمی، ٹھنڈ میں زیادہ دیر تک رہنا اور کمزور مدافعتی نظام ہے۔ہمارا یہ اجتماعی رویہ ہے کہ کسی وباکے وارد ہوتے ہی احتیاطی تدابیر تو کرتے ہیں لیکن پھر آہستہ آہستہ لاپروا ہو جاتے ہیں،اسکی ایک وجہ محکمہ صحت کا عوام کو کسی وبا کے بارے میں مسلسل آگاہی نہ فراہم کرنا بھی ہے۔عوامی اورحکومتی رویہ ہم کورونا کے دنوں میں بھی دیکھ چکے ہیں۔اب ہمیں اجتماعی طور پر اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی کہ موسمی تغیرات کی فوری روک تھام ممکن نہیں۔