قرضوں کا نیا بوجھ

اداریہ
12 فروری ، 2024
حالیہ انتخابات کے تحت بننے والی حکومت کو آئندہ جون تک کئی بڑی ادائیگیاں کرنی ہیں جس کیلئے اسے طویل عرصے پر مشتمل ایک بڑا قرض پروگرام درکار ہوگا۔اس حوالے سے جاری کردہ ایک غیرملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اکثریتی حکومت بنے یا اتحادی، اس کیلئے آئی ایم ایف کا نیا بیل آؤٹ پیکیج ناگزیر ہے۔ قبل ازیں نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور سابق وزیراعظم شہبازشریف بھی نئے بیل آؤٹ کی ضرورت اجاگر کرچکے ہیں۔ متذکرہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضوں کی صورت حال غیر یقینی اور غیرمستحکم ہے۔دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 2فروری 2024 تک زرمبادلہ کے ذخائر 13ارب 9کروڑ 76 لاکھ ڈالر تھے۔ان میں اسٹیٹ بینک کا حصہ 8ارب4کروڑ 40لاکھ جبکہ تجارتی بنکوں کی محفوظ رقم 5ارب5کروڑ 36لاکھ ڈالر تھی۔ حکومت پاکستان پر آئی ایم ایف سمیت 30جون2024تک کل قرضہ 820 کھرب روپے تک پہنچ جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اگر اندرون ملک ریونیو میں اور بیرونی سطح پر ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ نہ ہوا تو جون 2025 تک قرضوں کی مالیت 922.4 کھرب روپے تک پہنچ جائے گی۔ ان حالات میں جب ووٹر، الیکشن میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ راتوں رات ان کے مسائل حل کردیں گی اور مہنگائی سے نجات مل جائے گی، یہ بات بجا ہے کہ ایسا فوری ممکن نہیں۔اس کیلئے حکومت کو قلیل، درمیانی اور طویل مدتی پروگرام دینے چاہئیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے، ترسیلات زر اور برآمدات بڑھانے اور غیر ضروری درآمدات ختم کرنے پر ساری توجہ مرکوز کی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998