نئی حکومت اور برآمدات بڑھانے کا ہدف

کاشف اشفاق
12 فروری ، 2024
ملک بھر میں عام انتخابات کے پرامن انعقاد کے بعد اسکے نتائج کو سیاسی جماعتوں نے بڑی حد تک خوش دلی سے تسلیم کر لیا ہے۔ اس دوران انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش اور نتائج کی آمد میں تاخیر سے کچھ بدمزگی پیدا ہوئی لیکن مجموعی طور پر صورتحال اطمینان بخش رہی اور کسی سیاسی جماعت کی جانب سے نگراںحکومت، اسٹیبلشمنٹ یا الیکشن کمیشن آف پاکستان پر کسی طرح کی منظم دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے۔ اسکا سب سے زیادہ کریڈٹ فوج کو جاتا ہے جس نے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات کو غلط ثابت کرتے ہوئے انتخابات میں مداخلت کا شائبہ بھی نہیں ہونے دیا اور سیکورٹی یا امن وامان برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کیا۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اب سیاسی جماعتوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بات کا الزام دوسروںپر ڈالنے کی بجائے ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھائیں اور اداروں کے ساتھ خوامخوہ کی محاذ آرائی سے گریز کریں۔ یہ صورتحال اس لحاظ سے بھی پُر امید ہے کہ اب پارلیمنٹ کا حصہ بننے والی سیاسی جماعتیں انتخابی تنازعات سے بالاتر ہو کر حکومت سازی پر توجہ دیں گی اور قوم کی طرف سے دیئے جانے والے مینڈیٹ کے مطابق ملک کو آگے لے کر جانے کے سفر میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گی۔
تادم تحریر سامنے آنیوالے انتخابی نتائج کے مطابق وفاق میں اتحادی حکومت بننے کا امکان زیادہ ہے۔ اسلئے جو بھی سیاسی جماعتیں مل کر حکومت تشکیل دیں گی انہیں جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہو گا وہ معیشت کی بحالی کا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں گزشتہ کئی ماہ سے جمود طاری ہے۔ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے حکومت کے پاس سب سے پہلا یا فوری آپشن برآمدات میں اضافہ ہے۔ اس ہدف کے حصول کیلئے حکومت پوری دنیا کی مارکیٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ممالک کے ماہرین کی خدمات حاصل کر سکتی ہے جنہوں نے اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان ماہرین کی مدد سے یہ تحقیق کی جاسکتی ہے کہ دنیا بھر کی مارکیٹس میں پاکستانی مصنوعات کیلئے کہاں گنجائش موجود ہے اور کون سی مصنوعات کی مانگ ہے اور کس قیمت پر اسے مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہر سیکٹر کی ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے ایک ہدف طے کرکے اسے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے فنڈز دیئے جانے چاہئیں۔ اس طرح اگلے پانچ سال کے اہداف طے کرکے اچھی کارکردگی دکھانے والوں کیلئے انسینٹو بھی رکھا جا سکتا ہے تاکہ مقابلے کی مثبت فضاء پیدا کی جا سکے۔ یہ اقدام ٹیکسٹائل سمیت ایکسپورٹ انڈسٹری کے مختلف سیکٹرز میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا اور پہلے سے ترقی پذیر سیکٹرز کو بھی مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
اس وقت پاکستان میں نٹ ویئر سیکٹر میں کافی بڑے صنعتی ادارے کام کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں نٹ وئیر مصنوعات برآمد کر رہے ہیں۔ اسی طرح لیدر کے شعبے میں بھی پاکستان کا ایک نام ہے اور اس شعبے پر توجہ دے کر عالمی مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں فرنیچر، ہوم ٹیکسٹائل، اپیرل اور دیگر سیکٹرز پر توجہ دی جائے تو پاکستان کی برآمدات میں فوری اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان میں اس وقت امپورٹ بل کم کرنے کیلئے متبادل مصنوعات کی تیاری پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جبکہ برآمدات بڑھانےکیلئے درکار کوششوں میں دلچسپی کا فقدان نظر آتا ہے۔ دوسری طرف زرمبادلہ میں اضافے کیلئے تمام تر انحصار بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے والے پاکستانیوں پر کیا جا رہا ہے جو زیادہ پائیدار اور بہتر پالیسی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر برآمدات بڑھانےکیلئے عملی کوششیں کی جائیں اور انڈسٹری کے ہر سیکٹر کو یہ گائیڈ لائن دی جائے کہ وہ کون سی مصنوعات کس قیمت میں تیار کر کے کس ملک میں برآمد کر سکتے ہیں تو اس سے ناصرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا پائیدار انتظام ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا سفر بھی آگے بڑھے گا۔ اس حوالے سے بیرون ملک موجود پاکستانی سفارتی عملے اور کمرشل اتاشیوں کو ریجن اور متعلقہ ملک کے حساب سے برآمدات بڑھانے کے اہداف دیئے جا سکتے ہیں۔ ان کی پہلی ڈیوٹی یہ لگائی جا سکتی ہے کہ ان مارکیٹس اور بڑے عالمی خرید کنندگان یا گاہکوں کی نشاندہی کریں جو پاکستان سے مال نہیں خرید رہے ہیں تاکہ ان سے رابطہ کاری بڑھائی جا سکے۔ علاوہ ازیں وہ یہ معلومات بھی باآسانی اکٹھی کر سکتے ہیں کہ کون سا ملک کون سی مصنوعات کس مقدار میں کس ملک سے کس قیمت پر درآمد کر رہا ہے۔ اس طرح ہمارے پاس ہر ملک اور مارکیٹ کے حساب سے اپنی برآمدات بڑھانے کی منصوبہ بندی کرنے کیلئے ٹھوس معلومات موجود ہوں گی۔
ہمیں خاص طور پر ایسے ممالک کی مارکیٹس تک ترجیحی بنیادوں پر رسائی حاصل کرنی چاہئے جو چین، بنگلہ دیش اور انڈیا سے مختلف مصنوعات درآمد کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ، یورپی یونین، مشرق وسطیٰ اور دیگر ایسے ممالک جن سے حکومتی سطح پر اچھے روابطہ موجود ہیں ان سے رابطہ کر کے ایسی کمپنیوں کو پاکستان سے مال برآمد کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے جو یہاں بنائی جانے والی مصنوعات دیگر ممالک سے درآمد کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑی کمپنیوں کے نمائندوں اور عہدیداروں کو حکومت کی طرف سے پاکستان مدعو کیا جانا چاہئے تاکہ انہیں پاکستان کی برآمدی استعداد اور معیار کا مشاہدہ کروایا جا سکے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)