ن لیگی پیشکش،PP کا فیصلہ آج، سیاسی عدم استحکام سے بچائیں گے، زرداری، بلاول سے شہباز کی باضابطہ ملاقات، تعاون پر اتفاق

12 فروری ، 2024

لاہور(خصوصی نمائندہ،اپنے نامہ نگار سے، ایجنسیاں،جنگ نیوز)عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی دوسری بیٹھک ‘شہبازشریف کی قیادت میں ن لیگ کے وفد کی بلاول ہاؤس لاہور میں آصف زرداری اوربلاول بھٹوسے باضابطہ ملاقات ‘صورتحال پر مشاورت اور تجاویز پر تبادلہ خیال ‘سیاسی تعاون پر اتفاق ‘دونوں جماعتوں کے قائدین نے ملک کو سیاسی عدم استحکام سے بچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا‘مایوس نہیں کریں گےجبکہ پیپلزپارٹی نے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کااجلاس آج طلب کرلیا جس میں ن لیگ کی پیشکش پر غور اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیاجائےگا۔تفصیلات کے مطابق حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی دوسری ملاقات ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وفد نے شہباز شریف کی قیادت میں بلاول ہاؤس لاہور میں آصف زرداری اوربلاول بھٹوسے ملاقات کی۔ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی‘ قائدین نے ملک کو سیاسی استحکام سے ہم کنار کرنے کیلئے سیاسی تعاون پر اتفاق کیا۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں جماعتوں کے قائدین نے اصولی اتفاق کیا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے۔پی پی قیادت نے لیگی قائدین کو بتایاکہ مسلم لیگ ن کی تجاویز سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں رکھیں گے۔ ادھر ترجمان کے مطابق پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آصف زرداری اوربلاول بھٹو کی مشترکہ صدارت میں آج زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا۔ترجمان کے مطابق مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں سے رابطوں کا جائزہ لیا جائے گا اور حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں ۔ادھر ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے کہا کہ اب (ن) لیگ وزارت عظمی کے لئے انہیں سپورٹ کرے کیونکہ پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد سے لیکر 16ماہ تک پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ کو سپورٹ کیا۔ پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ صدر اور وزارت عظمی ہمارے پاس رہے۔ آصف زرداری نے یہ بھی واضح کیا کہ ہماری پوزیشن مضبوط ہے اس لئے وزارت عظمی کے لئے (ن) لیگ سے تعاون کا فیصلہ مشکل ہے۔ ذرائع کے مطابق (ن) لیگ نے پیپلز پارٹی کو آفر کی کہ اگر وہ انہیں وزارت عظمی کے لئے سپورٹ کرے تو وہ انہیں وزیر اعلی بلوچستان سمیت وفاق اور پنجاب میں اہم وزارتوں کی آفر کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو وزارت عظمی کے لئے تعاون کی درخواست کی اور اس کے بدلے میں صدر پاکستان، سپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینٹ کے عہدوں کی پیشکش کی۔